موبائل فون کیمروں نے گزشتہ چند برسوں میں حیران کن ترقی کی ہے۔ سن 2007 میں متعارف ہونے والے پہلے اسمارٹ فون میں صرف دو میگا پکسل کا ایک سادہ کیمرا موجود تھا، جبکہ آج کے جدید موبائل فونز میں اڑتالیس، پچاس حتیٰ کہ دو سو میگا پکسل تک کے طاقتور کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں۔ صرف کیمرے کی طاقت ہی نہیں بڑھی بلکہ اس کے ساتھ استعمال ہونے والا سافٹ ویئر بھی پہلے سے کہیں زیادہ جدید اور پیچیدہ ہو چکا ہے، جس میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے تصاویر کو بہتر بنانے کی سہولت بھی شامل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے موبائل فون خودکار طریقے سے اچھی تصاویر لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن اصل خوبصورت اور پیشہ ورانہ معیار کی تصاویر حاصل کرنے کے لیے صارفین کو کیمرے کی مختلف سیٹنگز اور فیچرز کو سمجھنا ضروری ہے۔ بہت سے صارفین نیا فون خریدنے یا تازہ اپ ڈیٹ کے بعد اس بات سے پریشان رہتے ہیں کہ کیمرے کے کنٹرولز کہاں منتقل ہو گئے ہیں، حالانکہ زیادہ تر سہولیات اب پہلے سے زیادہ منظم انداز میں فراہم کی گئی ہیں۔
ایپل کے جدید فونز میں کیمرا ایپلیکیشن کو نئے نظام کے تحت دوبارہ ترتیب دیا گیا ہے۔ اب اسکرین کے نچلے حصے میں تصویر اور ویڈیو کے دو مرکزی بٹن موجود ہوتے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے پر اضافی اختیارات ظاہر ہو جاتے ہیں جن کے ذریعے روشنی کی مقدار، تصویر کا سائز، فلیش اور دیگر ضروری کنٹرول تبدیل کیے جا سکتے ہیں۔ اسی حصے میں مختلف تصویری انداز بھی منتخب کیے جا سکتے ہیں، مثلا شوخ رنگوں والی تصویر یا سیاہ و سفید انداز۔ ٹائمر کی سہولت بھی شامل ہے جس کی مدد سے صارف خود کو گروپ یا خاندانی تصویر میں شامل کر سکتا ہے۔
اگر کسی صارف کو پورٹریٹ، پینوراما یا ٹائم لیپس جیسے موڈز نظر نہ آئیں تو اسکرین پر انگلی حرکت دینے سے تمام شوٹنگ موڈ سامنے آ جاتے ہیں۔ اسی طرح مختلف لینز کے درمیان تبدیلی بھی آسان رکھی گئی ہے، جہاں نمبرز پر دبانے سے وائیڈ اینگل، مرکزی یا دور کی تصویر لینے والا لینز منتخب کیا جا سکتا ہے، جبکہ پھول کا نشان انتہائی قریب سے تصویر لینے کے موڈ کی نشاندہی کرتا ہے۔
نئے ماڈلز میں فون کے کنارے پر موجود خصوصی کیمرا کنٹرول بٹن کے ذریعے زوم اور دیگر سیٹنگز فوری تبدیل کی جا سکتی ہیں۔ صارف اپنی ضرورت کے مطابق کیمرے کی ریزولوشن، ڈیفالٹ لینز اور حتیٰ کہ لینز گندا ہونے کی وارننگ تک سیٹنگز میں جا کر فعال کر سکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جدید وائرلیس ایئر فونز کو بھی کیمرے کے ساتھ منسلک کر کے تصویر لینے یا ویڈیو ریکارڈ کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب گوگل کے جدید فونز میں کیمرا نظام کو مصنوعی ذہانت سے مزید بہتر بنایا گیا ہے۔ نئے ماڈلز میں شامل ایک خصوصی سہولت تصویر بناتے وقت فریم اور زاویے کے بارے میں مشورے دیتی ہے تاکہ تصویر زیادہ متوازن اور دلکش بن سکے۔ کیمرے کی بیشتر سیٹنگز اسکرین پر ہی دستیاب ہوتی ہیں جہاں صارف روشنی، فوکس اور شٹر اسپیڈ جیسے کنٹرول خود ترتیب دے سکتا ہے۔
مزید جدید اختیارات میں تصویر کی کوالٹی، فائل کی قسم اور لینز کے انتخاب کی سہولت شامل ہے۔ رات کے آسمان کی فوٹوگرافی، رنگوں کو بہتر بنانے اور لینز صاف نہ ہونے کی اطلاع دینے جیسے فیچرز بھی فراہم کیے گئے ہیں۔ گروپ تصاویر کے لیے ایک دلچسپ فیچر ایسا بھی ہے جس میں دو الگ تصاویر لے کر انہیں ایک تصویر میں ضم کر دیا جاتا ہے تاکہ تصویر لینے والا شخص بھی گروپ کا حصہ بن سکے۔
ماہرین کے مطابق جدید اسمارٹ فون کیمرا صرف تصویر لینے کا آلہ نہیں رہا بلکہ ایک مکمل تخلیقی نظام بن چکا ہے۔ اگر صارف مختلف سیٹنگز کے ساتھ تجربہ کرنے میں کچھ وقت صرف کرے تو نہ صرف تصاویر کا معیار نمایاں طور پر بہتر ہو سکتا ہے بلکہ بعد میں ایڈیٹنگ کی ضرورت بھی کم ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین صارفین کو مشورہ دیتے ہیں کہ نئے موبائل فون کے کیمرے کو سمجھنے کے لیے وقت دیں تاکہ اس کی اصل صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔