امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں کے بعد ایران کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران کے مختلف شہروں میں فوجی اور شہری اہداف کو نشانہ بنا کر ملکی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ حملے نوروز سے قبل اور رمضان المبارک کے دوران کیے گئے، جو ایرانی عوام کے لیے خاص اہمیت کے حامل دن ہیں۔
وزارت خارجہ کے مطابق، امریکا اور اسرائیل کی جانب سے دفاعی تنصیبات اور دیگر مقامات پر فضائی حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی عمل جاری تھا۔ بیان میں کہا گیا کہ ایران کو حملے کے خدشات کے باوجود مذاکرات میں شرکت کی تاکہ عالمی برادری پر واضح کیا جا سکے کہ ایرانی قوم جنگ نہیں چاہتی اور کسی بھی جارحیت کا کوئی جواز نہیں ہے۔
ایرانی حکومت نے کہا کہ اب جبکہ حملہ ہو چکا ہے تو ملک اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ایران کی مسلح افواج جارحیت کا بھرپور اور مضبوط جواب دیں گی اور ملک کے دفاع میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتی جائے گی۔
وزارت خارجہ نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ حملے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2(4) کی خلاف ورزی اور ایران کے خلاف کھلی مسلح جارحیت ہیں۔ ایران نے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کے قانونی حق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے دشمن کی کارروائیوں کا جواب دے گا۔
بیان میں اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری کارروائی کرتے ہوئے عالمی امن و سلامتی کو درپیش خطرات کا نوٹس لیں۔ ایران نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے اراکین پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور اس جارحیت کی مذمت کریں۔
بیان میں کہا گیا کہ ایرانی قوم اپنی تاریخ کی طرح اس بار بھی کسی بیرونی دباؤ یا جارحیت کے سامنے نہیں جھکے گی اور ملک کا دفاع پوری قوت سے کیا جائے گا۔ وزارت خارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی وقار کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔