متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں ہفتے کو ختم ہونے والے دو روزہ مذاکرات میں روس، یوکرین اور امریکہ کے وفود نے چار سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
یوکرین اور روس کے درمیان اس اہم اجلاس کا محور ڈونباس خطے کے تنازع پر بات چیت کرنا تھا، جہاں روس یوکرین سے اس کے مشرقی صنعتی علاقے کا مکمل کنٹرول دینے کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ یوکرین کوئی بھی علاقہ چھوڑنے سے صاف انکار کر چکا ہے۔
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے مذاکرات سے قبل کہا تھا کہ ڈونباس کا سوال سب سے اہم ہوگا اور یہ تینوں فریقین کی توجہ کا مرکز رہے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن کی جانب سے ڈونباس کے مکمل کنٹرول کا مطالبہ مذاکرات کی بڑی رکاوٹ رہا۔ روس کے ترجمان دمیتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس کے لیے یوکرین کے ڈونباس چھوڑنے کا مطالبہ ایک انتہائی اہم شرط ہے۔
یوکرین نے سلامتی کی ضمانتوں پر بھی زور دیا ہے تاکہ کسی بھی امن معاہدے کے بعد روس دوبارہ حملہ نہ کر سکے۔
اطلاعات کے مطابق روس نے مذاکرات میں تجویز دی کہ تقریباً پانچ ارب ڈالر کے امریکی منجمد اثاثے روسی زیر قبضہ علاقوں کی بحالی کے لیے استعمال کیے جائیں، لیکن یوکرین اور اس کے یورپی اتحادیوں نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ روس کو جنگ سے ہونے والے نقصانات کی تلافی کرنی ہوگی۔
ابوظہبی مذاکرات کے بعد کسی بھی جانب سے فوری بیان جاری نہیں کیا گیا اور معاملات آئندہ اجلاسوں کے لیے موخر کر دیے گئے ہیں