پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات کی بنیاد محض آج کے کسی تجارتی معاہدے پر نہیں بلکہ یہ رشتہ صدیوں پر محیط تہذیبی، ثقافتی اور روحانی قربت کا امین ہے۔ برصغیر کی سرزمین جب ازبکستان کے عظیم سپوتوں کی علمی روشنی سے منور ہوئی، تو لاہور اور دہلی کے مدرسے سمرقند و بخارا کے علمی فیضان کے مرہونِ منت تھے۔ آج بھی ہم امام بخاریؒ اور امام ترمذیؒ جیسے جلیل القدر محدثین کا ذکر کرتے ہیں تو ازبکستان کے شہروں کی خوشبو ساتھ ساتھ محسوس کرتے ہیں۔
اسی تاریخی پس منظر میں دیکھا جائے تو حالیہ دنوں پاکستان اور ازبکستان کا معدنیات کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ایک نئی اقتصادی راہ کا آغاز ہے۔ معاونِ خصوصی برائے معدنیات و توانائی کا دورہ ازبکستان اور وہاں معدنی مصنوعات کی تیاری پر بات چیت، دونوں ممالک کے لیے روشن امکانات کی نوید ہے۔ ازبکستان معدنی وسائل سے مالا مال ملک ہے جبکہ پاکستان کو اپنی صنعتی و توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایسے مواقع درکار ہیں جو پائیدار اور دیرپا تعاون کی بنیاد رکھ سکیں۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ پاک-ازبک تعلقات صرف معدنیات یا تجارت تک محدود نہیں بلکہ سیاسی، ثقافتی اور دفاعی شعبوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ سوویت یونین کے بکھرنے کے بعد جب ازبکستان نے آزادی حاصل کی تو پاکستان ان اولین ممالک میں شامل تھا جس نے تاشقند کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ اس وقت سے لے کر آج تک دونوں ممالک مختلف شعبوں میں اشتراکِ عمل کو بڑھاتے چلے آ رہے ہیں۔ چاہے وہ تعلیم کا میدان ہو یا مذہبی و ثقافتی وفود کا تبادلہ، پاکستان اور ازبکستان ہمیشہ ایک دوسرے کے قریب رہے ہیں۔
موجودہ دور میں عالمی سیاست تیزی سے بدل رہی ہے اور وسطی ایشیا کو نئی اقتصادی راہداریوں کا مرکز سمجھا جا رہا ہے۔ ایسے وقت میں پاکستان اور ازبکستان کا ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونا نہ صرف دونوں ممالک کے مفاد میں ہے بلکہ پورے خطے میں استحکام اور ترقی کا باعث بھی ہو سکتا ہے۔ چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے تناظر میں اگر ازبکستان کو گوادر تک رسائی ملتی ہے تو یہ وسطی ایشیا کے لیے ایک نیا دروازہ کھولے گی۔
یہ حقیقت ہے کہ تاریخ صرف ماضی کا باب نہیں بلکہ مستقبل کی سمت بھی متعین کرتی ہے۔ آج جب پاکستان اور ازبکستان معدنیات کے شعبے میں مشترکہ اقدامات کی تیاری کر رہے ہیں تو یہ ہمیں اس روشن ماضی کی یاد دلاتا ہے جب دونوں خطے علم، تجارت اور ثقافت کے ذریعے ایک دوسرے سے جُڑے ہوئے تھے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس تعلق کو مزید وسعت دی جائے تاکہ دونوں ممالک ترقی و خوشحالی کے نئے دور میں قدم رکھ سکیں