پاکستان مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر اٹھانے میں کامیاب ہو گیا، وزیراعلٰی عمر عبداللہ

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعلیٰ، عمر عبداللہ نے بھارتی نیوز چینل ’این ڈی ٹی وی‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ، پاک-بھارت حالیہ کشیدگی کے بعد حالات یکسر بدل چکے ہیں، اور کشمیر آج اس موڑ پر آ پہنچا ہے جس کا کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ، جنگ نے کچھ حاصل نہیں ہونے دیا، بلکہ اس کے نتیجے میں تعلیمی ادارے، ایئرپورٹس اور سڑکیں بند ہو چکی ہیں، جبکہ عوام اب بھی خوف اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ، پاکستان مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے، اور اب امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے دونوں ممالک سے بات چیت کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے، جو پاکستان کی ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے۔

عمر عبداللہ نے اس بات پر زور دیا کہ، پہلگام حملے نے مقبوضہ کشمیر کی سیاحتی اور معاشی سرگرمیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق، کبھی جو وادی سیاحت کا مرکز تھی، اب وہاں ہوٹلز خالی پڑے ہیں اور مقامی لوگ بے روزگاری کا شکار ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ، پہلے یہاں سیاح پیک سیزن میں ہوٹلز کے کمرے لاکھوں میں بک کرواتے تھے، لیکن اب نہ صرف سیاحت ختم ہوچکی ہے، بلکہ لوگوں کی آمدنی کے دیگر ذرائع بھی بند ہو گئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ، پہلگام حملے کے متاثرین کو انصاف نہیں ملا، اور کشمیری عوام اس سانحے کے خاموش متاثرین ہیں، جنہیں معاشی اور نفسیاتی نقصان اٹھانا پڑا۔ انہوں نے اس صورتحال کو ایک بڑی ‘ٹریجڈی’ قرار دیا۔
یہ انٹرویو اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ، وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بھارت اور پاکستان سے بات کرکے ثالثی کا کردار ادا کریں گے۔

واضح رہے کہ، 22 اپریل کو پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے بعد بھارتی حکومت نے واضح الزام لگائے بغیر پاکستان کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے تھے۔ اس کے بعد بھارت نے 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب ‘آپریشن سندور’ کے تحت پاکستان کے مختلف شہروں میں حملے کئے تھے جس کے جواب میں پاکستان نے 10 مئی کو ‘آپریشن بنیان مرصوص’ لانچ کیاتھا۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں