دو ٹوک پیغام، مضبوط پاکستان

افغان فورسز کی جانب سے پاکستان کے سرحدی علاقوں پر بلااشتعال فائرنگ کا سلسلہ کوئی نیا نہیں، مگر حالیہ کارروائی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ پاکستان اب خاموش تماشائی نہیں۔ انگور اڈا، باجوڑ، کرم، دیر، چترال اور بارام چاہ کے محاذوں پر افغان فورسز نے جس غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل کا مظاہرہ کیا، اس کا بھرپور اور فوری جواب پاک فوج نے دیا وہ بھی اسی زبان میں جو دشمن سمجھ سکتا ہے۔

سیکورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے نہ صرف مؤثر جوابی کارروائی کی بلکہ افغانستان کے اندر خوارج اور داعش کے متعدد ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا۔ فضائیہ اور توپخانے کے استعمال نے دشمن کی قوت کو شدید نقصان پہنچایا۔ متعدد افغان چیک پوسٹیں تباہ ہوئیں اور طالبان لاشیں چھوڑ کر پسپا ہوگئے۔

یہ کارروائی صرف ایک فوجی ردعمل نہیں بلکہ پاکستان کی خودمختاری اور سلامتی کے ناقابلِ سمجھوتہ عزم کا اظہار ہے۔ افغانستان کی سرزمین سے دہشت گرد عناصر کی پاکستانی حدود میں دراندازی ناقابلِ قبول ہے۔ اگر کابل حکومت اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتی تو پاکستان کے پاس دفاعی اقدام کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔

یہ وقت دونوں ممالک کے لیے سنجیدہ غوروفکر کا ہے۔ سرحدی تعاون، انٹیلی جنس شیئرنگ اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی ہی خطے کے امن کی ضامن بن سکتی ہے۔ بصورت دیگر، ایسی کارروائیاں بارڈر کے دونوں جانب کشیدگی کو بڑھا کر خطے کو ایک نئے بحران میں دھکیل سکتی ہیں۔

پاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی ہے مگر امن کمزوری نہیں، بلکہ قوتِ برداشت کا دوسرا نام ہے۔ دشمن اگر اس برداشت کو کمزوری سمجھے، تو پاک فوج کا تازہ جواب اُس کے لیے ایک دوٹوک پیغام ہے:
“ہم امن چاہتے ہیں، مگر دفاع کے لیے ہر حد تک جائیں گے۔”

بھارت افغانستان گٹھ جوڑ پاکستان میں دہشت گردی اور خودکش حملوں کا سب سے بڑا سبب ہے، افغانستان بھارت کی گود میں بیٹھ کر اس کی تعریفوں کے گن گارہا، پل باندھ رہا اور پاکستان کو مسلسل قابل مذمت و ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا تازہ بیان درحقیقت پاکستان کی عسکری پالیسی کی نئی جہت اور خطے کے بدلتے توازنِ طاقت کا عکاس ہے۔ ان کا یہ جملہ کہ ’’بھارت کے کسی بھی ایڈونچر کا جواب ہولناک ہوگا‘‘ صرف ایک تنبیہ نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کے حساس جغرافیائی ماحول میں پاکستان کے عزم، تیاری اور خوداعتمادی کا اظہار ہے۔ آج خطے کا امن ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں ذرا سی غلط فہمی بھی بڑے تصادم میں بدل سکتی ہے۔

گزشتہ مہینوں میں بھارتی سیاسی و عسکری قیادت کی اشتعال انگیز تقاریر، پاکستان مخالف بیانات، اور سرحدی جارحیت کی دھمکیوں نے ایک بار پھر خطے کو بے یقینی کے گرداب میں دھکیل دیا ہے۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کی شدت پسند سوچ نے بھارت کو ایک ایسے فاشسٹ ڈھانچے میں بدل دیا ہے جو اپنے اندرونی بحرانوں، مذہبی انتہاپسندی، اور اقلیتوں پر مظالم سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان کو مستقل ہدف بناتا ہے۔ دہائیوں سے نئی دہلی کی یہی روایت رہی ہے کہ داخلی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے بیرونی دشمن کا تاثر قائم کیا جائے۔

2019ء کے پلوامہ اور بالاکوٹ واقعات کے بعد جب بھارت نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تو پاکستان نے نہایت تحمل مگر فیصلہ کن انداز میں جواب دے کر دنیا کو حیران کر دیا۔ بھارتی طیارے تباہ ہوئے، پائلٹ گرفتار ہوا، اور ’’چائے‘‘ کا ایک منظر جنگی جنون پر طنز بن گیا۔ لیکن اس ہزیمت کے باوجود بھارت نے سبق نہ سیکھا۔ آرٹیکل 370 اور 35-A کی منسوخی سے اس نے نہ صرف کشمیر کی خصوصی حیثیت سلب کی بلکہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور اپنے آئین دونوں کی خلاف ورزی کی۔

رواں برس مئی 2025ء میں ایک بار پھر حالات کشیدہ ہوئے جب بھارت نے پاکستان پر سرحد پار حملے کا الزام لگایا اور 7 مئی کو محدود فضائی کارروائی کی کوشش کی۔ مگر پاک فضائیہ کے شاہینوں نے بجلی کی تیزی سے دشمن کے عزائم خاک میں ملا دیے۔ سات بھارتی طیارے مار گرائے گئے جن میں جدید رافیل بھی شامل تھا۔ ایس 400 دفاعی نظام کی ناکامی نے بھارتی فوجی منصوبہ سازوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ یہ واقعہ بھارت کے لیے عسکری اور سفارتی سطح پر ایک اور شرمندگی ثابت ہوا، جبکہ پاکستان کے دفاعی عزم اور پیشہ ورانہ مہارت کا عملی مظہر بن گیا۔

مودی سرکار کے تازہ بیانات اور بھارتی افواج کے جارحانہ لب و لہجے نے فضا کو مزید کشیدہ کر دیا ہے۔ بھارت اپنی گرتی ہوئی معیشت، داخلی بے چینی اور سیاسی بدعنوانی سے توجہ ہٹانے کے لیے ایک بار پھر جنگی بیانیہ گھڑ رہا ہے۔ افغانستان کے راستے پراکسی نیٹ ورکس کو فعال کرنا، پاکستان کے اندر دہشت گردوں کو فنڈنگ فراہم کرنا، اور عالمی سطح پر منفی پروپیگنڈا اسی خطرناک ذہنیت کی علامت ہیں جس کا مقصد خطے کے امن کو مستقل عدم استحکام میں مبتلا رکھنا ہے۔

پاکستان نے ہمیشہ امن، مکالمے اور صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ تاہم، ہماری تاریخ گواہ ہے کہ صبر کو کمزوری سمجھنے والوں کو ہمیشہ شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ آج پاکستان کی مسلح افواج دفاعِ وطن کے لیے پوری طرح تیار اور ہر سطح پر مستعد ہیں۔ جدید میزائل نظام، فضائی برتری، سائبر وارفیئر اور انٹیلیجنس نیٹ ورک کی بدولت پاکستان کا دفاعی ڈھانچہ مضبوط، مربوط اور ناقابلِ تسخیر ہے۔

ساتھ ہی یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ جدید دنیا میں جنگیں صرف توپ و تفنگ سے نہیں جیتی جاتیں۔ سفارت کاری، معیشت، اور اطلاعاتی محاذ بھی اتنے ہی فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی کو زیادہ فعال، حقیقت پسند اور عالمی روابط سے ہم آہنگ بنانا ہوگا۔ اقوامِ متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم (OIC) اور دیگر عالمی فورمز پر بھارت کے جارحانہ رویے کو ٹھوس شواہد کے ساتھ بے نقاب کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

معاشی سطح پر بھی ہوشیاری ناگزیر ہے۔ جنگی فضا سرمایہ کاری کو بھگا دیتی ہے، مہنگائی بڑھاتی ہے، اور عوامی فلاح کو متاثر کرتی ہے۔ لہٰذا پاکستان کو دفاعی استحکام کے ساتھ ساتھ معاشی خودکفالت اور خطے کے ممالک سے تجارتی تعاون پر توجہ دینا ہوگی تاکہ کسی بھی بحران میں معیشت سہارا بن سکے، بوجھ نہیں۔

جنوبی ایشیا کا مستقبل اسی بات پر منحصر ہے کہ دونوں ایٹمی طاقتیں عقل و تدبر سے کام لیتی ہیں یا انا اور اشتعال کے بھنور میں پھنس جاتی ہیں۔ پاکستان کا موقف بالکل واضح ہے کہ ہم امن چاہتے ہیں مگر جارحیت کا جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ بھارت کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اشتعال انگیزی کی آگ میں جلنے والے بالآخر خود راکھ ہو جاتے ہیں۔

عالمی برادری پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مودی حکومت کے فاشسٹ رویے کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور جنوبی ایشیا کو ایک نئی جنگ کے دہانے سے دور رکھے۔ پاکستان کی پالیسی امن، وقار اور تدبر پر مبنی ہے۔ ہمارا عزم، ایمان اور حوصلہ ہی وہ اصل طاقت ہے جو پاکستان کو ناقابلِ شکست اور خطے کے امن کا ضامن بناتا ہے

Author

اپنا تبصرہ لکھیں