موسیقی سننا دماغی بیماری ڈیمینشیا کے اثرات کو کم کر سکتا ہے، ماہرین

ماہرین صحت نے کہا ہے کہ موسیقی سننا دماغی بیماری ڈیمینشیا کے اثرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر پونم کرشن کے مطابق موسیقی دماغ کے مختلف حصوں کو ایک ساتھ فعال کرتی ہے، جیسے یادداشت، توجہ، زبان اور جذبات، جس سے دماغ کی کارکردگی بہتر رہتی ہے اور ذہنی صلاحیتیں برقرار رہتی ہیں۔

ڈیمینشیا ایک سنجیدہ دماغی بیماری ہے جو اکثر بزرگ افراد کو متاثر کرتی ہے۔ اس میں یادداشت کی کمزوری، روزمرہ کے معمولات انجام دینے میں مشکلات، بات چیت میں دشواری اور مزاج یا شخصیت میں تبدیلی جیسے مسائل سامنے آتے ہیں۔ اگرچہ اس کا کوئی مکمل علاج موجود نہیں ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ موسیقی سننے سے بیماری کی علامات پر قابو پایا جا سکتا ہے اور دماغی تنزلی کی رفتار کم کی جا سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موسیقی خاص طور پر وہ جس سے سننے والا پہلے سے آشنا ہو، دماغ میں اعصابی روابط مضبوط کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ یہ عمل ان علاقوں میں زیادہ مؤثر ہے جو یادداشت اور توجہ کے لیے اہم ہیں۔ برین امیجنگ کے ذریعے تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ موسیقی سننا دماغ کو فعال اور توانا رکھتا ہے، جس سے دماغی کارکردگی بہتر رہتی ہے اور ڈیمینشیا کے اثرات کم ہو سکتے ہیں۔

ڈاکٹر پونم کرشن کے مطابق موسیقی دماغ کو راحت پہنچانے کے ساتھ اس کی تخیلاتی صلاحیتوں کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ پرانے گانے سننے سے دماغ میں یادداشت اور جذباتی سکون پیدا ہوتا ہے، جو نہ صرف دماغی بیماری کے اثرات کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے بلکہ دماغ کی عمومی صحت کے لیے بھی مفید ہے۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ موسیقی نہ صرف تفریح کا ذریعہ ہے بلکہ دماغی صحت کے لیے ایک مؤثر طریقہ بھی ہے۔ پسندیدہ اور پرانے گانے سننا دماغ کے لیے ایک طرح کی ورزش ہے، جو اعصابی رابطوں کو مضبوط کرتی ہے، ذہنی تناؤ کو کم کرتی ہے اور دماغ کو فعال رکھتی ہے۔ اس طرح موسیقی ڈیمینشیا کے اثرات کو کم کرنے اور دماغی کارکردگی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں