کابل: ماضی اور حال کے درمیان ایک سوچ

تاشقند کی ایک پرانی لائبریری کے کونے میں بیٹھے گل بہادر خان کی آنکھوں میں جب کابل کی پرانی یادیں تیرتی ہیں تو لگتا ہے جیسے وقت کے کسی دریچے سے گزر کر دو مختلف دنیاؤں کے درمیان کھڑا ہوں۔ ایک دنیا وہ جہاں 1960ء اور 1970ء کی دہائیوں میں کابل خطے کا ایک جدید شہر تھا، اور دوسری وہ جہاں آج یہ شہر بین الاقوامی میڈیا میں صرف جنگ، دہشت اور مذہبی انتہا پسندی کی خبروں کے لیے موجود ہے۔

ظاہر شاہ کے دور (1933-1973) کو افغان تاریخ کا سنہری دور کہا جاتا ہے۔ 1964ء کے آئین نے ملک میں ایک آئینی بادشاہت کی بنیاد رکھی ۔ جس میں پارلیمنٹ کا قیام، میڈیا کی آزادی، اور خواتین کے ووٹ کے حق جیسے اقدامات شامل تھے۔ کابل یونیورسٹی اس وقت وسط ایشیا کی معروف تعلیمی درس گاہوں میں شمار ہوتی تھی جہاں نہ صرف افغان بلکہ ایرانی، پاکستانی اور وسط ایشیائی طلبہ بھی تعلیم حاصل کرتے تھے۔
ثقافتی اعتبار سے کابل کا شمار اس وقت کے متحرک ترین شہروں میں ہوتا تھا۔ ریڈیو کابل سے نشر ہونے والے احمد ظاہر اور رخشانہ کے گانے نہ صرف افغانستان بلکہ پڑوسی ممالک میں بھی مقبول تھے۔ 1970ء کی دہائی میں کابل میں سالانہ بین الاقوامی فلم فیسٹیول منعقد ہوتا تھا جس میں ہندوستان، ایران اور سوویت یونین کی فلمیں دکھائی جاتی تھیں۔ شہر میں موجود سینما گھر اور تھیٹرز ثقافتی زندگی کا مرکز تھے۔

معاشی لحاظ سے 1960ء کی دہائی کو "افغان معجزہ” کا نام دیا جاتا ہے۔ ہلمند ویلی پروجیکٹ جیسے منصوبوں نے زراعت میں انقلاب برپا کیا۔ کابل میں ہوٹل انٹرکانٹینینٹل جیسے جدید ہوٹلز تعمیر ہوئے۔ سیاحت کو فروغ دینے کے لیے "ہپی ٹریل” کے نام سے مشہور زمینی راستہ کابل کو یورپ اور جنوب مشرقی ایشیا سے ملاتا تھا۔

1973ء کے بعد کے واقعات نے اس تصویر کو مکمل طور پر بدل دیا۔ سردار داؤد خان کی بغاوت، سوویت یونین کی مداخلت، مجاہدین کی جدوجہد، خانہ جنگی اور پھر طالبان کے عروج نے کابل کی شناخت ہی بدل دی۔ 1996ء میں طالبان کے قبضے کے بعد شہر نے جو صورتحال دیکھی وہ ماضی کے مقابلے میں بالکل مختلف تھی۔ موسیقی، فنون لطیفہ، خواتین کی تعلیم اور تمام تر ثقافتی سرگرمیوں پر پابندی نے شہر کو ایک نئی شناخت سے روشناس کروایا ۔

2001ء کے بعد کے دور میں ایک بار پھر سکولز اور یونیورسٹیاں کھلیں، میڈیا کو قدرے آزادی ملی ، خواتین نے کام کرنا شروع کیا۔ لیکن 2021ء میں طالبان کی واپسی سے ایک بار پھر سے افغانستان کو اپنی شناخت تبدیل کرنا پڑی ۔ اگرچہ طالبان نے امن قائم کرنے کا دعویٰ کیا ہے لیکن خواتین کی تعلیم پر پابندیوں، میڈیا پر سنسرشپ، اور ثقافتی سرگرمیوں پر قدغنوں نے ایک بار پھر سے افغانستان کو بین الاقوامی تنقید کا نشانہ بنا دیا ہے۔

موجودہ صورتحال کے بارے میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 24 ملین افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہے جو کہ ملک کی آبادی کا نصف سے زیادہ ہے۔ یونیسکو کے اعداد و شمار کے مطابق طالبان کے دور حکومت میں لڑکیوں کے سیکنڈری اسکولز میں داخلے کی شرح صفر ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق افغان معیشت 2021ء کے بعد سے 30 فیصد سکڑ چکی ہے۔

تاریخ شاہد ہے کہ کوئی بھی معاشرہ علم اور ترقی کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتا۔ کابل کی یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ جب ایک قوم اپنی علمی اور ثقافتی میراث کو نظر انداز کر دیتی ہے تو اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔ افغانستان کے مستقبل کے بارے میں کوئی بھی پیش گوئی کرنا قبل از وقت ہوگا، لیکن اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ یہ ملک ایک شاندار ماضی کا حامل ہے ۔ موجودہ حکومت کو ماضی کی روایات ، ثقافت اور تہذیب میں سے کوئی راستہ نکال کر ایک قابل قبول معاشرہ تشکیل دینا چاہیے ۔ بصورت دیگر عوام کی منشاء کے بغیر نافذ کیے گئے قوانین اور تشکیل دیا گیا معاشرہ زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں