اسرائیل نے غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں کام کرنے والی 37 بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کے لائسنس منسوخ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ یہ تنظیمیں نئی رجسٹریشن کے قواعد کے تحت تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہی ہیں۔
بی بی سی عربی کے مطابق، ان تنظیموں میں ایکشن ایڈ، انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی، ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز اور نارویجن ریفیوجی کونسل سمیت دیگر تنظیمیں شامل ہیں جن کے لائسنس یکم جنوری سے معطل کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ ان کی سرگرمیاں 60 دن کے اندر ختم کر دی جائیں گی۔
اسرائیل کا الزام ہے کہ ان تنظیموں نے اپنے ملازمین کے بارے میں مکمل ذاتی معلومات فراہم نہیں کیں، جبکہ بین الاقوامی این جی اوز کا کہنا ہے کہ اس طرح کے تقاضے ان کے عملے کی زندگی کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔
اسرائیل کے اس فیصلے کی 10 ممالک نے مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ قواعد بنیادی سہولتوں تک رسائی کو شدید متاثر کریں گے۔
ایک مشترکہ بیان میں برطانیہ، فرانس، کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، آئس لینڈ، جاپان، ناروے، سویڈن اور سوئٹزرلینڈ کے وزرائے خارجہ نے کہا کہ بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیمیں غزہ میں انسانی امداد کا لازمی حصہ ہیں اور ان کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کی کوئی بھی کوشش ناقابلِ قبول ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس کے بغیر تمام فوری ضروریات کو مطلوبہ پیمانے پر پورا کرنا ناممکن ہوگا