‘میرے دو روسی خواتین کے ساتھ تعلقات رہے’، بل گیٹس کی اپنی فاونڈیشن عملے سے جیفری ایپسٹین کے ساتھ تعلقات پر معذرت

دنیا کی معروف کاروباری شخصیت اور مائیکروسافٹ کے شریک بانی بِل گیٹس نے اپنی فلاحی تنظیم کے عملے سے ملاقات کے دوران سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے روابط پر کھل کر اظہار کیا اور اپنے فیصلوں کی ذمہ داری بھی قبول کی۔ گیٹس فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ بل گیٹس نے عملے کے سوالات کے تفصیلی اور واضح جواب دیے۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، بل گیٹس نے ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایپسٹین کے ساتھ وقت گزارنا ایک ’’بڑی غلطی‘‘ تھی اور اس پر انہوں نے معذرت بھی کی۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ گیٹس نے اعتراف کیا کہ ان کے دو روسی خواتین کے ساتھ تعلقات رہے تھے جن کے بارے میں بعد میں ایپسٹین کو معلوم ہو گیا تھا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا اور نہ ہی ایپسٹین کے ساتھ رہتے ہوئے کسی غیر قانونی سرگرمی کا مشاہدہ کیا۔

یہ معاملہ اس وقت دوبارہ خبروں میں آیا جب امریکی محکمہ انصاف نے جنوری میں ایپسٹین سے متعلق مزید دستاویزات جاری کیں۔ ان دستاویزات میں بعض تصاویر بھی شامل تھیں جن میں بل گیٹس خواتین کے ساتھ نظر آتے ہیں، تاہم ان خواتین کے چہرے دھندلا دیے گئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق، گیٹس نے کہا کہ یہ تصاویر ایپسٹین کی درخواست پر ملاقاتوں کے بعد لی گئی تھیں۔

بل گیٹس، جن کی عمر 70 برس ہے، پر ایپسٹین کے متاثرین کی جانب سے کسی قسم کے غلط اقدام کا الزام عائد نہیں کیا گیاہے۔ انہوں نے فاؤنڈیشن کے عملے کو بتایا کہ انہوں نے پہلی بار 2011 میں ایپسٹین سے ملاقات کی، جو اس وقت کی بات ہے جب ایپسٹین کم عمر لڑکی کو جسم فروشی پر آمادہ کرنے کے جرم میں سزا قبول کر چکا تھا۔ گیٹس نے کہا کہ انہیں ایپسٹین کے سفر پر عائد پابندیوں کا کچھ علم تھا لیکن انہوں نے اس کے پس منظر کی مکمل جانچ نہیں کی، جو ان کی غلطی تھی۔

رپورٹ کے مطابق، انہوں نے 2014 تک ایپسٹین سے ملاقاتیں جاری رکھیں اور بیرون ملک بھی اس کے ساتھ وقت گزارا، تاہم انہوں نے کہا کہ وہ کبھی اس کے جزیرے پر نہیں گئے اور نہ ہی اس کے گھر میں رات قیام کیا۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ان کی سابق اہلیہ میلنڈا فرینچ گیٹس کو ایپسٹین سے ان کے تعلقات پر شکوک تھے اور وہ اس حوالے سے ہمیشہ محتاط رہتی تھیں۔

یاد رہے کہ بل اور میلنڈا گیٹس نے مشترکہ طور پر اپنی فلاحی تنظیم قائم کی تھی اور 27 سالہ شادی کے بعد 2021 میں علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ حال ہی میں ایک انٹرویو میں میلنڈا گیٹس نے کہا کہ ایپسٹین فائلز کی تازہ اشاعت نے ان کی ازدواجی زندگی کے تکلیف دہ لمحات کو دوبارہ زندہ کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو بھی سوالات باقی ہیں، ان کے جوابات متعلقہ افراد کو دینے چاہییں۔

دوسری جانب جنوری میں جاری کی گئی بعض ای میلز کے مسودوں میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ بل گیٹس کو ایک جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماری لاحق ہوئی تھی اور اسے چھپانے کی کوشش کی گئی۔ گیٹس کے ترجمان نے ان الزامات کو مکمل طور پر بے بنیاد اور مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اگرچہ بل گیٹس تسلیم کرتے ہیں کہ ایپسٹین سے ملاقات ایک سنجیدہ غلطی تھی، تاہم وہ ایپسٹین کی مجرمانہ سرگرمیوں سے کسی بھی قسم کے تعلق یا غلط طرزِ عمل کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔

بل گیٹس نے ایک حالیہ انٹرویو میں بھی کہا تھا کہ ایپسٹین کے ساتھ ان کی ملاقاتیں زیادہ تر عشائیوں تک محدود تھیں اور وہ اس کے ساتھ گزارے گئے ہر لمحے پر افسوس کرتے ہیں۔ گیٹس فاؤنڈیشن نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ تنظیم کے چند ملازمین نے ایپسٹین سے اس بنیاد پر رابطہ رکھا تھا کہ وہ فلاحی منصوبوں کے لیے وسائل فراہم کر سکتا ہے، تاہم کسی قسم کا مشترکہ منصوبہ شروع نہیں کیا گیا، نہ کوئی فنڈ قائم ہوا اور نہ ہی فاؤنڈیشن کی جانب سے ایپسٹین کو کوئی ادائیگی کی گئی۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں