غزہ امن بورڈ

کیا غزہ امن بورڈ ، بین الاقوامی قانون کی روشنی میں ایک جائز قدم ہے اور کیا مسلمان ممالک کو اس میں شریک ہونا چاہیے تھا؟

پہلا سوال یہ ہے کہ غزہ بورڈ کے قیام کا فیصلہ کس نے کیا اور کس قانون کے تحت کیا؟ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق کسی دوسرے ملک میں کوئی کارروائی صرف اقوام متحدہ کی اجازت سے ہو سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ سلامتی کونسل کا یہ اختیار ڈونلڈ ٹرمپ کو کیسے منتقل ہوا اور کس قانون کے تحت ہوا؟

دوسرا سوال یہ ہے کہ غزہ امن بورڈ کا چارٹر کب کہاں اور کس نے بنایا؟ اس چارٹر کی قانونی حیثیت کیا ہے؟ کیا جنرل اسمبلی میں اس پر کوئی بات ہوئی؟ کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ یہ کتنے ووٹوں سے پاس ہوا؟ حتی کہ اگر ساری دنیا مل کر بھی ووٹ دے دے تو کیا اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت دنیا کو ایسا حق مل سکتا ہے کہ وہ کسی خطے کے عوام کے بارے میں ، ان کی مرضی کے بغیر فیصلہ کریں؟

تیسرا سوال یہ ہے کہ غزہ کے علاقے میں حکومت اور فیصلہ سازی کا حق ٹرمپ کو کیسے مل گیا اور کس قانون کے تحت مل گیا؟ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2 کی ذیلی دفعہ 7 میں یہ اصول طے ہو چکا ہے کہ کسی کے داخلی معاملات میں مداخلت کا حق کسی کو نہیں ہو گا۔ تو یہ حق ٹرمپ کو کیسے مل گیا؟ فلسطین میں حق حکومت فلسطینیوں کا ہے یا ٹرمپ کا؟

چوتھا سوال یہ ہے غاصب قوت تو اسرائیل ہے۔ بین الاقوامی قانون کو پامال کر کے نسل کشی کا ارتکاب اس نے کیا ہے۔ امن کو خطرہ اس سے ہے۔ تو امن بورڈ اگر بننا ہی تھا تو اسے مظلوم غزہ کا نظام اپنے ہاتھ میں لینا چاہئے تھا یا ظالم اسرائیل کا؟

پانچواں سوال یہ ہے کہ غزہ کی نسل کشی میں شامل اسرائیل اور اس کا سرپرست امریکہ تو اس معاملے میں فریق ہیں ۔ جنہوں نے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہو وہ امن بورڈ کی قیادت کیسے سنبھال سکتے ہیں؟

چھٹا سوال یہ ہے کہ غزہ سے غیر مسلح ہونے کا مطالبہ کیوں؟ ایسا مطالبہ اسرائیل سے کیوں نہیں کیا جاتا جس کے جنگی جرائم کے خلاف پوری دنیا میں احتجاج ہو رہا ہے؟

ساتواں سوال یہ ہے کہ امن بورڈ کی قانونی حیثیت ایک مسیحا کی ہے یا غاصب کی جو اقوام متحدہ کے چارٹر اور جنیوا کنونشن کو پامال کرتے ہوئے طاقت کے زور پر غزہ میں حق حکومت حاصل کر رہا ہے؟

آٹھواں سوال یہ ہے کہ حق خودارادیت فلسطینیوں کا مسلمہ حق ہے۔ امن بورڈ کے ذریعے اس حق کو پامال کرکے ان سے سیاسی امور میں فیصلہ سازی کا حق چھین لینا کیا بذات خوود جنگی جرم نہیں ہے؟

نواں سوال یہ ہے کہ غزہ امن بورڈ کے چارٹر میں غزہ کا ذکر تک نہیں ہے تو اس کی کیا وجہ ہے؟ کیا یہ سمجھا جائے کہ اب یہ ایک بین الاقوامی بورڈ ہے جس کا دائرہ کار صرف غزہ تک محدود نہی ہے۔ اب دنیا بھر کے فیصلے یہی کیا کرے گا اور اقوام متحدہ کا کھیل ختم ہو چکا۔ اب ڈونلڈ ٹرمپ ہی اقوام متحدہ ہیں۔

دسواں سوال یہ ہے کہ اس امن بورڈ کا مقصد فلسطین کی آزادی کی راہ ہموار کرنا ہے یا اسرائیلی قبضے کو دوام دینا ہے؟ اگر فلسطین کی آزادی مقصد ہے تو چارٹر میں اس کا ذکر کیوں نہیں؟ اگر اسرائیلی قبضے کو دوام دینا ہے تو کیا جنگی جرم نہیں؟

گیارہویں سوال کا تعلق اس بورڈ کی ایگزیکٹو ٹیم سے ہے۔ اس میں مریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، ٹرمپ کے خصوصی نمائندے سٹیو وٹکوف، برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر شامل ہیں۔ یعنی چار میں سے تین امریکی۔ ایک بھی مسلمان اس قابل نہیں سمجھا گیا کہ ایگزیکٹو ٹیم میں رکھا جاتا۔ یہ امن بورڈ ہے یا لشکر کشی ہے؟

بارہواں سوال اسی سے متصل ہے کہ مقصد اصلاح احوال ہے یا غزہ مین رئیل اسٹیٹ کے غیر معمولی امکانات پر قبضہ؟ داماد محترم کے بیانات تو بالکل واضح ہیں۔توگر مقصد معاشی امکانات پر قبضہ ہے تو کیا لوٹ مار یعنی ” پلج” کے زمرے میں نہیں آتا اور کیا یہ جنگی جرم نہیں ہے؟

اب آئیے دوسرے سوال کی جانب کہ کیا پاکستان کو اس بورڈ میں شامل ہونا چاہیے تھا؟

اصول وہی ہیں جو اوپر بیان ہو چکے ۔ لیکن عملی حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں کوئی ایسا فورم نہیں جہاں یہ اصول لاگو ہو سکیں، اقوام متحدہ کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔ اسرائیل نے جی بھر کر تباہی پھیلائی کوئی ا س کا ہاتھ نہ روک سکا۔ خلیج کے اکثر ممالک دولت مند تو ہیں لیکن یہ سٹی سٹیٹ ہیں یعنی شہر جتنے ہیں اور ریاست کہلاتے ہیں ۔ جو باقی ہیں ان کی حیثیت ہی نہیں کہ طاقت کا استعمال کر سکیں۔ مغربی دنیا لا تعلق ہے۔ وہ اپنے گرین لینڈ پر تو پریشان ہو جاتی ہے لیکن فلسطینیوں کی نسل کشی پر نہیں ہوتی۔ ابھرتی ہوئی متبادل عالمی طاقتیں بھی یہ جرات نہیں رکھتیں کہ امریکہ کے سامنے کھڑی ہو سکیں۔ روس یوکرین میں الجھا ہےاور چین تو ان معاملات میں ایسے ہی ہے جیسے خواب میں واؤ معدولہ ہوتی ہے۔ ایسے میں مسلم ممالک کیا کریں؟

ان حالات میں مسلمان ممالک کے پاس دو آپشن تھے۔ پہلا یہ کہ لاتعلق ہو جائیں ۔ ٹرمپ کو ناراض کر دیں اور اسرائیل کو واک اوور دے دیں۔ ٹرمپ کو اس وقت کسی قانون کسی اخلاقیات کی پرواہ نہیں نہ ہی کوئی ا س کا ہاتھ روک سکتا ہے۔ پھر دور بیٹھ کر دیکھتے رہیں کہ ٹرمپ کا بورڈ اسرائیل کے ساتھ مل کر غزہ کے ساتھ مزید کیا کچھ کرتا ہے۔ اور کبھی کبھی مذمتی بیان جاری کر کے دل کو خوش کر لیں کہ ہم نے فرض ادا کر دیا ہے۔

دوسرا راستہ یہ تھا کہ بورڈ میں شامل ہو جائیں ۔ وہاں موجود ہوں گے تو فلسطینیوں کے لیے کوئی بات کر سکیں گے۔ ان پر منڈلاتی تباہی اور بربادی کو ٹال سکیں گے۔ ان کے زخموں پر کچھ مرہم رکھ سکیں گے۔ یہ راستہ ظاہر ہے مثالی نہیں ہے ، یہ اضطراری حالت میں اختیار کیا راستہ ہے ۔ ناگزیر برائی کے طور پر۔ بڑی مصیبت ٹالنے کے لیے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں