اوپن اے آئی کے سابق محقق سُچیر بالاجی پُراسرار حالات میں مردہ پائے گئے

مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اوپن اے آئی کے سابق محقق سُچیر بالاجی کی لاش 26 نومبر کو سین فرانسسکو میں ان کے اپارٹمنٹ سے ملی۔ پولیس نے ابتدائی تحقیقات اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ان کی موت کی وجہ خودکشی قرار دی ہے۔

وسل بلور کی حیثیت سے اُبھرنے والے سُچیر بالاجی

26 سالہ سُچیر بالاجی نے اوپن اے آئی میں چار سال خدمات انجام دیں۔ بعدازاں وہ کمپنی کے خلاف بطور وسل بلور سامنے آئے اور اوپن اے آئی پر چیٹ جی پی ٹی سافٹ ویئر میں کاپی رائٹ قوانین کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔

کاپی رائٹ تنازعہ

سُچیر بالاجی کا کہنا تھا کہ اوپن اے آئی نے اپنے چیٹ جی پی ٹی ماڈل کے لیے کاپی رائٹ شدہ مواد کا غیر قانونی استعمال کیا۔ تاہم، اوپن اے آئی نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف انٹرنیٹ پر عوامی طور پر دستیاب ڈیٹا کا استعمال کرتی ہے۔

اوپن اے آئی کے خلاف دیگر مقدمات

یہ امر قابل ذکر ہے کہ نیویارک ٹائمز، امریکی اور کینیڈین پبلشرز، اور کئی معروف مصنفین نے بھی اوپن اے آئی کے خلاف ان کے مواد کے غیر مجاز استعمال پر مقدمات دائر کر رکھے ہیں۔

پُراسرار موت پر سوالات

سُچیر بالاجی کی پُراسرار موت نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے، اور ان کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات کے تناظر میں اس معاملے کی مزید تحقیقات متوقع ہیں

Author

اپنا تبصرہ لکھیں