امریکی خفیہ ادارہ سی آئی اے مبینہ طور پر ایرانی کرد مسلح گروہوں کو اسلحہ فراہم کرنے کے منصوبے پر کام کر رہا ہے تاکہ ایران میں حکومت کے خلاف عوامی بغاوت کو بھڑکایا جا سکے۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق، اس منصوبے سے واقف متعدد ذرائع نے بتایا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایرانی اپوزیشن گروپوں اور عراق کے کرد رہنماؤں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور انہیں فوجی مدد دینے کے امکانات پر بات چیت جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق، ایرانی کرد مسلح گروہوں کے ہزاروں جنگجو ایران اور عراق کی سرحد کے قریب سرگرم ہیں، جن کی زیادہ تر موجودگی عراق کے کردستان علاقے میں ہے۔ جنگ شروع ہونے کے بعد ان گروہوں میں سے کئی نے بیانات جاری کیے ہیں جن میں جلد کارروائی کا اشارہ دیا گیا اور ایرانی فوجی اہلکاروں سے حکومت چھوڑنے کی اپیل کی گئی ہے۔ دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے بھی ان کرد گروہوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں اور منگل کے روز کہا ہےکہ درجنوں ڈرون حملوں کے ذریعے کرد فورسز کو نشانہ بنایاگیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی کرد گروہوں کے لیے سی آئی اے کی حمایت جنگ شروع ہونے سے کئی ماہ پہلے ہی شروع ہو چکی تھی۔ اس دوران منگل کے روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی کرد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹک پارٹی آف ایرانی کردستان کے سربراہ مصطفیٰ حجری سے بھی رابطہ کیا۔ یہ وہی جماعت ہے جسے ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے حالیہ حملوں میں نشانہ بنایا تھا۔
ایک اعلیٰ ایرانی کرد عہدیدار کے مطابق، توقع ہے کہ ایرانی کرد اپوزیشن فورسز آئندہ چند دنوں میں مغربی ایران میں زمینی کارروائی میں حصہ لے سکتی ہیں۔ ایک ذریعے نے کہا کہ انہیں اس وقت کامیابی کا بڑا موقع نظر آ رہا ہے اور انہیں امید ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ان کی مدد کریں گے۔
امریکی حکام کے مطابق، صدر ٹرمپ نے اتوار کے روز عراق کے کرد رہنماؤں سے بھی گفتگو کی اور ایران میں جاری امریکی فوجی کارروائی اور آئندہ تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔ تاہم ایرانی کرد گروہوں کو اسلحہ فراہم کرنے کے لیے عراق کے کرد حکام کی حمایت ضروری ہو گی کیونکہ اسلحہ کی ترسیل اور ممکنہ کارروائی کے لیے عراق کے کردستان علاقے کو بنیاد کے طور پر استعمال کرنا پڑے گا۔ کردستان ریجنل گورنمنٹ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اس صورتحال کو نہایت خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی مخالفت کرنا ان کے لیے ممکن نہیں۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ اگر کرد مسلح گروہ ایرانی سکیورٹی فورسز کو مصروف رکھیں تو ایران کے بڑے شہروں میں موجود غیر مسلح عوام کو احتجاج کا موقع مل سکتا ہے۔ بعض منصوبوں میں یہ امکان بھی زیر غور بتایا گیا ہے کہ کرد فورسز شمالی ایران کے کچھ علاقوں پر قبضہ کر کے ایک حفاظتی بفر زون قائم کریں۔
تاہم عراق کے قومی سلامتی کے مشیر قاسم الاعرجی نے واضح کیا ہے کہ عراق اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ان کے مطابق، کردستان ریجن کی وزارت داخلہ نے ایران کے ساتھ سرحدی علاقوں میں پیشمرگہ فورسز کی اضافی نفری بھی تعینات کر دی ہے۔
امریکی وزارت دفاع نے اس معاملے پر محتاط ردعمل دیا ہے۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ امریکہ کے اہداف کسی خاص گروہ کو اسلحہ فراہم کرنے پر مبنی نہیں ہیں، تاہم انہیں معلوم ہے کہ دیگر عناصر اس حوالے سے سرگرم ہو سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، امریکہ ممکنہ طور پر کرد گروہوں کی مدد کے ذریعے ایران میں حکومت کے خلاف بغاوت کو تیز کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ لیکن بعض سابق امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اس اقدام سے خطے میں پہلے سے کشیدہ صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے اور اس سے عراق کی خودمختاری بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ادھر اسرائیلی فوج بھی حالیہ دنوں میں ایران اور عراق کی سرحد کے قریب ایرانی فوجی اور پولیس چوکیوں پر حملے کر رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ممکنہ طور پر کرد مسلح گروہوں کی نقل و حرکت کے لیے راستہ ہموار کرنا ہے اور آئندہ دنوں میں ان کارروائیوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ کرد گروہوں کے پاس ہزاروں جنگجو موجود ہیں، تاہم امریکی انٹیلی جنس کے اندازوں کے مطابق، اس وقت ان کے پاس اتنی طاقت یا اثر و رسوخ نہیں کہ وہ خود سے ایران میں کامیاب بغاوت کر سکیں۔ اسی لیے وہ امریکہ سے سیاسی اور فوجی یقین دہانی چاہتے ہیں۔
کرد عوام مشرق وسطیٰ کی ایک بڑی نسلی اقلیت ہیں جن کی تعداد تقریبا 2 کروڑ 50 لاکھ سے 3 کروڑ کے درمیان سمجھی جاتی ہے۔ ان کی آبادی ترکی، عراق، ایران، شام اور آرمینیا کے مختلف علاقوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ ماضی میں بھی امریکہ نے مختلف مواقع پر کرد فورسز کے ساتھ تعاون کیا ہے، خاص طور پر عراق اور شام میں شدت پسند تنظیم داعش کے خلاف کارروائیوں کے دوران۔ تاہم کرد رہنماؤں کو یہ خدشہ بھی رہتا ہے کہ امریکہ ماضی کی طرح انہیں کسی مرحلے پر تنہا نہ چھوڑ دے۔