ایران کے دارالحکومت تہران میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد سامنے آنے والی تفصیلات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کارروائی ایک طویل اور منظم خفیہ منصوبے کا نتیجہ تھی۔ فنانشل ٹائمزکی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی انٹیلی جنس اداروں نے برسوں تک تہران کے حساس علاقوں کی نگرانی کی اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اہم شخصیات کی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھی۔
معاملے سے باخبر ذرائع کے مطابق، تہران میں لگے بیشتر ٹریفک کیمروں کو ہیک کر لیا گیا تھا اور ان کی تصاویر خفیہ طور پر اسرائیل میں موجود سرورز تک منتقل کی جاتی رہیں۔ ان کیمروں کے فوٹیجز کی نگرانی کے ذریعے سکیورٹی اہلکاروں کی روزمرہ سرگرمیوں اور ان کی گاڑیوں کی پارکنگ کے مقامات تک کا اندازہ لگایا جاتا تھا۔ جدید الگورتھمز کے ذریعے سکیورٹی عملے کی ڈیوٹی کے اوقات، رہائش گاہوں، راستوں اور ان شخصیات کی معلومات جمع کی گئیں جن کی حفاظت کی ذمہ داری انہیں سونپی جاتی تھی۔ اس عمل کو انٹیلی جنس کی زبان میں ’’پیٹرن آف لائف‘‘ تیار کرنا کہا جاتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی سگنلز انٹیلی جنس یونٹ 8200، بیرون ملک سرگرم خفیہ ادارے موساد اور فوجی انٹیلی جنس مشترکہ طور پر یہ معلومات اکھٹا کر رہی تھیں۔ اربوں ڈیٹا پوائنٹس کا تجزیہ کر کے ممکنہ اہداف کی نشاندہی کی جاتی رہی۔ ایک ذریعے کے مطابق، اسرائیلی انٹیلی جنس کلچر میں ہدف کی درست نشاندہی بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور اگر سیاسی فیصلہ ہو جائے تو انٹیلی جنس ادارے مطلوبہ معلومات فراہم کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، حملے سے قبل پاستور اسٹریٹ کے قریب، جہاں آیت اللہ علی خامنی ای کو نشانہ بنیا گیا، موبائل فون ٹاورز کے بعض حصوں کو بھی متاثر کیا گیا، جس سے کالز بظاہر مصروف دکھائی دیتی تھیں اور ممکنہ انتباہی پیغامات سکیورٹی عملے تک نہ پہنچ سکے۔ امریکی سی آئی اے اور اسرائیلی حکام نے مبینہ طور پر یہ تعین کیا تھا کہ خامنہ ای ہفتے کی صبح اپنے دفتر میں موجود ہوں گے اور ان کے ساتھ کون سی اہم شخصیات شریک ہوں گی۔
اس سے قبل گزشتہ سال جون میں ہونے والی 12 روزہ جنگ کے دوران بھی ایران کے کئی جوہری سائنس دانوں اور اعلیٰ فوجی افسران کو ہلاک کیا گیا تھا، جبکہ ایران کے فضائی دفاعی نظام کو سائبر حملوں، ڈرونز اور درست نشانے والے ہتھیاروں کے ذریعے غیر مؤثر بنایا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق، اسرائیلی فضائیہ نے ایسے میزائل استعمال کیے جو ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ فاصلے سے انتہائی درستگی کے ساتھ ہدف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
تاہم بعض موجودہ اور سابق اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ خامنہ ای کو نشانہ بنانا محض تکنیکی کامیابی نہیں بلکہ ایک سیاسی فیصلہ تھا۔ ان کے مطابق، جب یہ واضح ہو گیا کہ ایرانی قیادت ایک اہم اجلاس کے لیے ایک جگہ جمع ہو رہی ہے تو اسے کارروائی کے لیے موزوں موقع سمجھا گیا۔