پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق ڈائریکٹر جنرل فیض حمید کو قید بامشقت کی سزا سنائے جانے کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ آج ریڈ لائن کراس کرنے والے شخص کو سزا ہوئی ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ سزا شواہد کی بنیاد پر سنائی گئی ہے اور اس سے قبل ٹرائل کے دوران فیض حمید کو اپنا بھرپور دفاع پیش کرنے کا پورا موقع دیا گیا تھا۔ وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ تمام گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہونے اور شواہد سامنے آنے کے بعد ایک انصاف پر مبنی فیصلہ سامنے آیا ہے۔
وفاقی وزیر قانون نے اس موقع پر کہا کہ کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں، جبکہ فوج کے اندر خود احتسابی کا نظام نہایت مؤثر ہے، جس کی واضح مثال سب کے سامنے آ چکی ہے۔
ان کے مطابق، فیض حمید نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا اور ان کے خلاف سیاسی معاملات سے متعلق الزامات پر مزید تحقیقات بھی کی جائیں گی۔ عطا اللہ تارڑ نے مزید کہا کہ فیض حمید پی ٹی آئی کے سیاسی مشیر بھی تھے۔ آج کا فیصلہ حق اور سچ کی فتح ہے۔