پاکستان کرکٹ بورڈ نے آج چیمپینز ٹرافی 2025کے لئے پندرہ رکنی پاکستانی کرکٹ سکواڈ کا اعلان کیا ہے، یہی ٹیم جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ کے خلاف تین ملکی ٹورنامنٹ بھی کھیلے گی۔
جنوبی افریقہ میں ون ڈے سیریز کھیلنے اور جیتنے والی ٹیم میں چار تبدیلیاں کی گئی ہیں، ایک تو قابل فہم ہے، صائم ایوب جو انجرڈ ہوگئے تھے، ان کو مکمل فٹنیس حاصل کئے بغیر کھلانا زیادتی تھا۔ عبداللہ شفیق نے جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز کے تینوں میچر میں تین صفر لئے تھے، ڈراپ ہونا بنتا ہے۔ عرفان خان نیازی بھی زیادہ متاثرکن اننگز نہیں کھیل سکے، ویسے بھی انہیں ٹی ٹوئنٹی میں کھلایا جا رہاہے، چوتھا ڈراپ ہونے والا کھلاڑی مسٹری لیف آرم سپنر سفیان مقیم ہے۔ سفیان کے ساتھ قدرے زیادتی ہوئی، کیونکہ اسے ایک ہی میچ کھلایا گیا، اگرچہ اس میں اس کی قدرے پٹائی تو ہوئی مگر آخر میں اسی نے وکٹیں لے کر میچ جتوایا تھا۔ سفیان مقیم کی جگہ مگر کوئی دوسرا سپنر نہیں شامل کیا گیا تو اندازہ یہی ہے کہ چیمپینز ٹرافی میں سپن کے بجائے فاسٹ پر انحصار کیا جائے گا۔
جن چار کھلاڑیوں کی ٹیم میں واپسی ہوئی ہے، ان میں فخر زماں کی شمولیت تو یقینی تھی۔ انہیں اپنے متنازع ٹوئٹ کی بنا پر ڈراپ کیا گیا اور معافی تلافی ہوگئی تھی۔ باقی تین کھلاڑی سعود شکیل ، خوشدل شاہ اور آل رائونڈر فہیم اشرف ہیں۔
فہیم اشرف اور خوشدل شاہ خاصے عرصے سے ٹیم سے آوٹ تھے اور یہ سمجھا جا رہا تھا کہ ان کا انٹرنیشنل کیرئر ختم ہوگیا ہے۔ ان دونوں کی واپسی دلچسپ اور اہم ہے۔ دونوں آل رائونڈر ہیں، خوشدل شاہ نمبر چھ، سات پر بیٹنگ کرتے ہیں جبکہ لیفٹ آرم مفید پارٹ ٹائم سپنر ہیں جبکہ فہیم اشرف میڈیم فاسٹ باولر اور نمبر سات، آٹھ پر بیٹنگ کرتے ہیں۔
ان دونوں کی شمولیت پر یقیناً سوشل میڈیا میں شور مچے گا، مگر تنقید کرنے سے پہلے ان کی حالیہ بنگلہ دیش پریمئر لیگ میں کارکردگی پر ایک نظر ڈال لینی چاہیے۔ بی پی ایل ایک ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ ہے، مگر بہرحال وائٹ وال کرکٹ ہے اور وہاں دی گئی پرفارمنس غیر اہم نہیں۔
فہیم اشرف نے بطور باولر بہت ہی عمدہ کارکردگی دکھائی ہے۔ پچھلے پانچ چھ دنوں کے دوران انہوں نے تین میچز کھیلے اور ان میں دس وکٹیں لے چکے ہیں، چھبیس جنوری کو سٹرائیکرز کے خلاف میچ میں صرف سات رنز دے کر پانچ وکٹیں اور دو دن قبل ڈھاکہ کے خلاف پندرہ رنز دے کر تین وکٹیں لینا قابل ذکر ہے۔ البتہ فہیم اشرف بیٹنگ میں کچھ زیادہ نہیں کر پائے، تاہم اپنے آخری لسٹ اے میچ میں جو دو ماہ قبل ہوا، اس میں فہیم نے نصف سنچری بنائی تھی۔
خوشدل شاہ نے بھی بنگلہ دیش پریمئر لیگ میں بہت اچھی کارکردگی دکھائی ہے۔ بطور بلے باز رنز بنائے اور بطور باولر وکٹیں لی ہیں۔ خوشدل شاہ نے اپنے آخری تین میچز میں آٹھ وکٹیں لی ہیں جبکہ پچھلے دو ہفتوں میں دو اچھی نصف سنچریز بنائی ہیں، کھلنا کے خلاف تہتر رنز جبکہ چٹاگانگ کے خلاف انسٹھ رنز بنائے۔ اسی کارکردگی پر راشد لطیف نے مطالبہ کیا تھا کہ خوشدل شاہ کو ٹیم میں شامل کیا جائے۔ عثمان خان نے بھی بنگلہ دیش پریمئر لیگ میں ایک سنچری اور دو نصف سنچریاں بنائی ہیں، اسی وجہ سے شامل کیا گیا، اگرچہ اپنے پچھلے تین چار میچز میں وہ ناکام ہوا۔
سعود شکیل کی قومی ون ڈے ٹیم میں واپسی بھی اہم ہے۔ وہ پہلے ون ڈے انٹرنیشنل کھیل چکے ہیں، بھارت میں کھیلا جانے والا ون ڈے ورلڈ کپ بھی کھیلا مگر زیادہ پرفارم نہ کر سکے۔ سعود شکیل تب سے باہر تھے۔ اب ان کی واپسی ہوئی ہے۔ سعود شکیل پچھلے پی ایس ایل میں کوئٹہ گلیڈیٹر کی جانب سے اوپننگ کرتے رہے حالانکہ ٹیسٹ ٹیم میں وہ مڈل آرڈر بلے باز ہیں۔ اب پاکستان کرکٹ بورڈ کی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ فخر زماں کے ساتھ یا سعود شکیل اوپننگ کریں گے یا پھر بابراعظم ۔ یہ بھی دلچسپ ہوگا کیونکہ بابر اعظم اب تک ون ڈے میں نمبر تین پر کھیلتے رہے ہیں، وہ البتہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں اوپننگ کرنے پر اصرار کرتے ہیں۔ بابر سے اوپننگ کرائی جاتی ہے تو دیکھنا ہوگا کہ وہ کیسا پرفارم کرتے ہیں ؟
کپتان محمد رضوان ہیں، جبکہ نائب کپتان سلمان علی آغا۔ ٹیم کا زیادہ انحصار فاسٹ باولرز پر لگ رہا ہے۔ شاہین شاہ آفریدی، نسیم شاہ، حارث رئوف، محمد حسنین کی صورت میں تیز باولرز جبکہ فہیم اشرف فاسٹ میڈیم باولر موجود ہیں۔ سپن کے لئے ابرار احمد پر انحصار ہوگا یا پھر پارٹ ٹائم سپنرز سلمان آغا اور خوشدل شاہ کی طرف دیکھا جائے گا۔
قومی ٹیم کاغذ پر خاصی مضبوط اور بیلنس لگ رہی ہے۔ چیمپینز ٹرافی سے پہلے اس کی آزمائش جنوبی افریقہ اور پھر نیوزی لینڈ کے خلاف ہوگی، فائنل میں پہنچنے کی صورت میں ایک مزید میچ مل جائے گا۔
یاد رہے کہ پاکستان چیمپینز ٹرافی میں اپنا پہلا میچ نیوزی لینڈ کے خلاف انیس فروری کو کراچی میں کھیلے گا۔یہ ٹورنامنٹ نو مارچ تک چلے گا۔