اقوام متحدہ کی ایجنسی ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (ڈبلیو ایم او) نے 2024 کو تاریخ کا گرم ترین سال قرار دیا ہے، جس میں کرہ ارض کے اوسط درجہ حرارت میں 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ادارے کی سیکرٹری جنرل، سیلسٹے ساؤلو نے خبردار کیا کہ اس سال کے دوران متعدد بار ریڈ الرٹس جاری کیے گئے تاکہ دنیا کو بڑھتے ہوئے ماحولیاتی خطرات کے بارے میں آگاہ کیا جا سکے۔
ماحولیاتی تباہی کی شدت
سیلسٹے ساؤلو نے بتایا کہ 2024 کے دوران دنیا بھر میں ریکارڈ توڑ بارشوں، سیلاب، اور سمندری طوفانوں کے باعث بھاری جانی و مالی نقصان ہوا۔ خاص طور پر بحر ہند میں فرانس کے زیرِ کنٹرول جزیرے مایوٹ میں آنے والے سمندری طوفان نے نمایاں تباہی مچائی۔
شدید گرمی اور جنگلات کی آگ
2024 کے دوران دنیا کے کئی خطے ناقابلِ برداشت گرمی سے دوچار رہے، جہاں بعض اوقات درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ جنگلات میں لگنے والی آگ نے نہ صرف ماحول بلکہ انسانی زندگی اور معیشت پر بھی تباہ کن اثرات ڈالے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے سالِ نو کے پیغام میں کہا، "ہم نے ایک ایسے عشرے کا اختتام کیا ہے جو انسانی تاریخ کا گرم ترین عشرہ ثابت ہوا ہے۔ یہ صورتحال آب و ہوا کی تیز رفتار تبدیلیوں کا نتیجہ ہے اور ہمیں فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان تبدیلیوں کی رفتار کو کم کیا جا سکے۔”
آب و ہوا کی تبدیلی کے اثرات
ڈبلیو ایم او کی رپورٹ کے مطابق 2024 کے دوران گرمی کے شدید دنوں میں 41 دن کا اضافہ ہوا، جس سے انسانی صحت اور ماحولیاتی نظام کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔ شدید موسمی حالات کی شدت میں بھی اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں 3700 افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو گئے۔
فوری اقدامات کی ضرورت
ماہرین کے مطابق 2024 کے موسمیاتی اثرات نے واضح کر دیا ہے کہ دنیا کو گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی، ماحولیاتی تحفظ، اور قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ رپورٹ عالمی برادری کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ایک سنجیدہ بحران ہے جس سے نمٹنے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔