مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ فوجی کشیدگی اور متعدد ممالک کی فضائی حدود بند ہونے کے بعد بیرونِ ملک پھنسے ازبک شہریوں کو واپس لانے کے لیے خصوصی اقدامات جاری ہیں۔
ازبک وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق اب تک مقامی ایئر لائنز کی جانب سے 22 خصوصی پروازیں چلائی جا چکی ہیں جن کے ذریعے ہزاروں شہریوں کو وطن واپس لایا گیا ہے۔
یہ بحران 28 فروری کو اس وقت شروع ہوا جب خطے کے دس ممالک نے اپنی فضائی حدود محدود کر دیں، جس کے باعث ازبکستان سے دبئی، شارجہ، مدینہ، جدہ، دوحہ، تل ابیب، تہران اور کویت سٹی کے لیے تمام شیڈول پروازیں منسوخ ہو گئیں۔
وزارتِ ٹرانسپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق متحدہ عرب امارات، کویت، قطر، سعودی عرب اور اسرائیل میں موجود 1,681 ازبک شہری پروازیں اچانک معطل ہونے کے بعد واپس نہ آ سکے۔ دوسری جانب وزارتِ خارجہ کو مشرقِ وسطیٰ میں موجود شہریوں کی جانب سے مجموعی طور پر 2,144 امدادی درخواستیں موصول ہوئیں۔
صدر شوکت مرزائیوف کی ہدایت پر وزارتِ ٹرانسپورٹ نے ملکی اور غیر ملکی ایئر لائنز کے تعاون سے شہریوں کی واپسی کے لیے ہنگامی منصوبہ فعال کر دیا ہے۔ اس کارروائی کی نگرانی سول ایوی ایشن ایجنسی کے تحت قائم 24 گھنٹے کام کرنے والی خصوصی ٹاسک فورس کر رہی ہے۔
حکام کے مطابق واپسی کے اس عمل میں خاص طور پر ان علاقوں کو ترجیح دی جا رہی ہے جہاں شہریوں کی بڑی تعداد موجود ہے، جن میں سعودی عرب میں حج یا عمرے کے لیے جانے والے زائرین بھی شامل ہیں۔