موٹاپا؛ عالمی صحت کا ایک سنگین بحران

عالمی ادارۂ صحت کی تازہ رپورٹ کے مطابق موٹاپا دنیا بھر میں تیزی سے پھیلتا ہوا ایک بڑا صحت بحران بن چکا ہے۔ سن 2022 میں دنیا کا ہر آٹھواں فرد موٹاپے کا شکار تھا جبکہ ایک ارب سے زائد افراد اس مرض کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ سن 1990 کے بعد سے بالغ افراد میں موٹاپا دوگنا سے زیادہ ہو چکا ہے اور نوعمر افراد میں اس کی شرح چار گنا بڑھ گئی ہے۔ سن 2022 میں ڈھائی ارب یعنی 2.5 ارب بالغ افراد زائد وزن کا شکار تھے جن میں سے تقریباً 89 کروڑ افراد موٹاپے میں مبتلا تھے۔ اسی سال 18 سال یا اس سے زائد عمر کے 43 فیصد بالغ افراد زائد وزن جبکہ 16 فیصد موٹاپے کا شکار پائے گئے۔

بچوں کی صورتحال بھی نہایت تشویشناک ہے۔ سن 2024 کے اندازوں کے مطابق پانچ سال سے کم عمر تقریباً 3 کروڑ 50 لاکھ بچے زائد وزن کا شکار تھے۔ اسی طرح سن 2022 میں پانچ سے انیس سال کی عمر کے 39 کروڑ سے زائد بچے اور نوجوان زائد وزن میں مبتلا تھے جن میں سے 16 کروڑ سے زیادہ موٹاپے کا شکار تھے۔ سن 1990 میں یہی شرح محض 8 فیصد تھی جو بڑھ کر 2022 میں 20 فیصد تک پہنچ گئی، جو اس مسئلے کی تیز رفتار شدت کو ظاہر کرتی ہے۔

موٹاپا اس وقت پیدا ہوتا ہے جب جسم میں حاصل ہونے والی توانائی اور خرچ ہونے والی توانائی کے درمیان توازن قائم نہ رہے۔ زیادہ چکنائی، شکر اور نمک والی خوراک، تیار شدہ غذائیں، میٹھے مشروبات، جسمانی سرگرمی میں کمی اور طویل وقت تک بیٹھے رہنے کی عادت اس اضافے کی اہم وجوہات ہیں۔ شہری طرزِ زندگی، غیر صحت بخش خوراک کی آسان دستیابی اور صحت مند غذا کی نسبتاً زیادہ قیمت بھی اس بحران کو بڑھا رہی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق بلند جسمانی کمیت دل کے امراض، شوگر، فالج، کینسر اور سانس کی دائمی بیماریوں سمیت کئی غیر متعدی امراض کا سبب بنتی ہے۔ سن 2021 میں زیادہ جسمانی کمیت کے باعث تقریباً 37 لاکھ اموات ریکارڈ کی گئیں۔ بچپن کا موٹاپا نہ صرف ذہنی اور معاشرتی مسائل کو جنم دیتا ہے بلکہ مستقبل میں بالغ عمر کے موٹاپے اور دائمی بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھا دیتا ہے۔

معاشی اعتبار سے بھی یہ بحران سنگین ہے۔ اندازوں کے مطابق اگر مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو سن 2030 تک موٹاپے کے باعث عالمی سطح پر سالانہ اخراجات 3 کھرب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں اور آئندہ دہائیوں میں یہ بوجھ مزید بڑھ سکتا ہے۔

یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ موٹاپا محض فرد کی عادت کا مسئلہ نہیں بلکہ سماجی، معاشی اور پالیسی سطح کا چیلنج ہے۔ صحت مند خوراک کی دستیابی، جسمانی سرگرمی کے مواقع، ابتدائی مرحلے پر وزن کی جانچ اور عوامی آگاہی مہمات کے ذریعے ہی اس بڑھتے ہوئے بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اگر فوری اور جامع اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں غیر متعدی امراض میں نمایاں اضافہ عالمی صحت نظام کے لیے ایک بڑا امتحان ثابت ہو سکتا ہے

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں