امریکی حکومت کے اہلکاروں نے ایک نجی اجلاس میں کانگریس کے عملے کو بتایا ہے کہ ایران کی جانب سے امریکی افواج پر پہلے حملے کی کوئی خفیہ اطلاع نہیں تھی، جس کی وجہ سے امریکہ کی جانب سے ایران پر حالیہ حملے پر سوال اٹھ گئے ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل نے ہفتے کو ایران پر شدید حملے کیے، جن میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای بھی جاں بحق ہو گئے۔ اس حملے میں ایران کے کئی مقامات کو نشانہ بنایا گئے۔
ٹی آر ٹی ورلڈ کے مطابق، کانگریس کے عملے کے ساتھ اتوار کو ہونے والی بریفنگ سے معلوم ہوا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سینیئر اہلکاروں کی طرف سے جنگ کی حمایت میں دی جانے والی وجہ میں تضاد تھا۔ ایک روز قبل میڈیا کو بتایا گیا تھا کہ ٹرمپ نے یہ حملے ایران کے ممکنہ پیشگی حملے کے ہیشِ نظر کیے۔
پینٹاگون کے اہلکاروں نے سینیٹ اور ہاؤس کی قومی سلامتی کمیٹیوں کے عملے کو 90 منٹ سے زائد بریفنگ دی۔ ان بریفنگز میں بتایا گیا کہ ایران کے بیلسٹک میزائل اور خطے میں پراکسی فورسز امریکی مفادات کے لیے خطرہ ہیں، مگر ایران کی جانب سے پہلے حملے کی کوئی خفیہ اطلاع نہیں تھی۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ حملے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے، اس کے میزائل پروگرام کو محدود کرنے اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے خطرات ختم کرنے کے لیے کیے گئے ہیں۔ انہوں نے ایرانی عوام سے حکومت کو گرانے کی اپیل بھی کی ہے۔
فوج کے مطابق، حملوں میں B-2 اسٹیلتھ بمبار جہازوں نے ایران کے زیر زمین میزائل مراکز پر 900 کلوگرام وزنی بم گرائے۔
امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے بھی اپنی ایک پوسٹ میں سوال اٹھایا کہ جب گزشتہ جون میں ٹرمپ کے بقول ایران کے جوہری تنصیبات مکمل طور پر تباہ ہو گئے تھے تو پھر اب جوہری ہتھیاروں کو بہانہ بنا کر حملہ کیوں کیا گیا؟