‘چین دوسری بڑی معیشت ہے، یہ دانشمندانہ رویہ نہیں کہ برطانیہ ریت میں اپنا سر چھپا لے’، برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر

برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر جمعے کے روز چین کے مالیاتی مرکز شنگھائی پہنچے، جہاں وہ برطانوی کمپنیوں کے لیے کاروباری مواقع بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیجنگ اور لندن کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے پر مخالفت کا اشارہ دیا ہے۔

کیئر اسٹارمرچین کے دورے پر 50 سے زائد برطانوی کاروباری شخصیات کو اپنے ہمراہ لائے ہیں۔ یہ گزشتہ آٹھ برسوں میں کسی برطانوی وزیر اعظم کا چین کا پہلا دورہ ہے۔ اسٹارمر نے کہا کہ امریکی صدر کی تنقید زیادہ تر کینیڈا کے حوالے سے تھی، نہ کہ برطانیہ کے بارے میں۔ ان کے مطابق، واشنگٹن کو ان کے دورے اور اس کے مقاصد کے بارے میں پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھا، جبکہ صدر ٹرمپ خود بھی رواں سال بہار میں چین کے دورے کا عندیہ دے چکے ہیں۔

اسٹارمر نے برطانوی نشریاتی ادارے اسکائی نیوز سے گفتگو میں کہا کہ چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے اور ہانگ کانگ کے ساتھ مل کر برطانیہ کا تیسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ ان کے بقول، چین سے تعلقات کو نظرانداز کرنا دانشمندانہ نہیں ہوگا اور اس دورے کے ذریعے روزگار اور دولت کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

برطانوی وزیر اعظم نے اپنے دورے کا آغاز جمعرات کو بیجنگ سے کیا، جہاں ان کی ملاقات چینی صدر شی جن پنگ سمیت دیگر اعلیٰ چینی رہنماؤں سے ہوئی۔ ملاقات میں دونوں ممالک نے طویل المدت اور مستحکم اسٹریٹجک شراکت داری کے فروغ پر اتفاق کیا۔

دوسری جانب واشنگٹن میں صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ وہ چین اور برطانیہ کے درمیان کسی بھی معاہدے کی مخالفت کر سکتے ہیں۔ انہوں نے گفتگو کے دوران کینیڈا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چین کے ساتھ کاروبار کرنا خطرناک ہے، خاص طور پر کینیڈا کے لیے، جس کے ساتھ ان کے تعلقات حالیہ مہینوں میں کشیدہ رہے ہیں۔

کیئر اسٹارمر اور کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی ان غیر ملکی رہنماؤں میں شامل ہیں جو حالیہ عرصے میں چین کا دورہ کر چکے ہیں، کیونکہ کئی ممالک امریکی ٹیرف پالیسیوں کے باعث اپنی معیشتوں پر دباؤ محسوس کر رہے ہیں اور متبادل منڈیوں کی تلاش میں ہیں۔

برطانوی وزیر اعظم نے یہ بھی بتایا کہ صدر شی جن پنگ نے ان برطانوی ارکان پارلیمنٹ پر عائد سفری پابندیاں ختم کرنے پر اتفاق کیا اور واضح کیا ہے کہ اب تمام برطانوی پارلیمنٹیرینز چین کا دورہ کر سکتے ہیں۔

چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک نے اپنی پارلیمانوں کے درمیان معمول کے تبادلوں پر اتفاق کیا ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں