ٹرمپ کو صدارت سنبھالے آج پورا ایک سال ہو گیا ہے اور جو تاثر ان کی پہلی تقریر سے قائم ہوا تھا وہ پوری طرح برقرار ہے بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ زیادہ راسخ ہوتا جا رہا ہے۔ پہلے وہ باتیں کرتے رہے، اب وہ اپنی دھمکیوں پر عمل کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ دنیا کے کسی قانون کو نہیں مانتے اور صرف وہی فیصلے کرتے ہیں جو انہیں مناسب محسوس ہوتے ہیں اور اس سلسلے میں کسی کو جوابدہ نہیں ہیں۔ صدر ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر کو اغوا کروایا، لاطینی امریکہ کے ممالک پر پابندیاں عائد کرنے کا کہا، کینیڈا کو امریکہ میں شامل کرنے کی بات کی، یورپی یونین اور نیٹو کو نیچا دکھانے کی کوشش کی، گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کا بیان دیا، امریکہ کو نیٹو سے نکالنے کا پیغام دیا۔ ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے جس کے تحت امریکہ بین الاقوامی تنظیموں، کنونشنز اور معاہدوں سے دستبردار ہو گیا۔ انہوں نے سخت امیگریشن، تجارتی جنگ، خارجہ پالیسی اور ادارہ جاتی اصلاحات سمیت کئی ایسے فیصلے کیے جنہوں نے امریکہ کی داخلی و بین الاقوامی پالیسیوں کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ انہوں نے کئی ممالک پر جائز و ناجائز بھاری ٹیرف عائد کیے جس کے اثرات امریکی معیشت پر واضح طور پر مرتب ہوئے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی معاہدے سے امریکہ کو نکالا اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل میں شمولیت ختم کی، جبکہ ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی نافذ کی۔ غزہ جنگ میں اسرائیل کی کھل کر حمایت و تائید کی اور نیتن یاہو کو ہر طرح کا اسلحہ و مالی امداد فراہم کرتے رہے، دوسری جانب غزہ کے فلسطینیوں کے ساتھ ہمدردی بھی جتاتے رہے۔ ٹرمپ نے اسرائیل سے ایران پر حملہ کرایا اور پھر خود بھی ایران کے ایٹمی پروگرام کو نشانہ بنایا لیکن ان کا جی نہیں بھرا وہ ایک بار پھر ایران کے درپے ہیں۔
ایران میں رجیم چینج (Regime Change)ہوتا ہے یا نہیں اس بارے میں وثوق کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن فی الحال دونوں ملکوں میں گرم بیانات کا تبادلہ ہو رہا ہے۔ ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا کہ اگر سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف کوئی بھی جارحانہ اقدام کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔ ایرانی مسلح افواج کے ترجمان جنرل ابوالفضل شکارچی نے اپنے ایک بیان میں کہا”اگر ہمارے رہبر کی جانب کسی نے ہاتھ بڑھایا تو ہم وہ ہاتھ کاٹ دیں گے اور ان کی دنیا کو آگ لگا دیں گے“۔ اس کے رد عمل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ”اگر ایرانی حکومت نے مجھے قتل کیا تو امریکہ ایران کو مکمل طور پر تباہ کر دے گا“۔
جنگِ عظیم اول (1914-18ء) کو تمام جنگوں کے خاتمے کی جنگ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ جنگ تمام جنگوں کے خاتمے کی جنگ ثابت نہ ہو سکی کیونکہ اس کے بعد پھر جنگ عظیم دوم لڑی گئی۔ دوسری جنگ عظیم ختم ہوئی تو اقوام متحدہ کا ادارہ بنا اور باقی بچ جانے والی عالمی برادری کو امن اور آشتی کی ضمانت دی گئی لیکن عالمی سطح پر امن پھر بھی قائم نہ ہو سکا۔ جنگ عظیم دوم کے بعد 200سے زیادہ چھوٹی بڑی جنگیں لڑی جا چکی ہیں۔
متکبر حکمرانوں کی ایک مثال ہٹلر ے جس نے اپنی طاقت کے زعم میں یورپ کے بہت سے ممالک کو تاخت و تاراج کیا اور بالآخر روس کے برف زاروں میں اسے شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا۔ نازیوں نے ایڈولف ہٹلر کے دور میں کُل 11 ملین یعنی ایک کروڑ دس لاکھ افراد کا قتل کیا۔ ظلم، جبر، بربریت، مطلق العنانی، آمریت اور تکبر کا یہ قصہ یہیں ختم نہیں ہو جاتا۔ روس کے زار آئیون چہارم (Ivan IV Vasilyevich) کو اس کے ظلم کی وجہ سے تاریخ میں آئیون مہیب کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ بیلجیم کے شاہ لیوپولڈ ثانی (Leopold II of Belgium) نے افریقہ میں کانگو فری سٹیٹ کی بنیاد رکھی، مقامی باشندوں کو ہاتھی دانت اور ربڑ کی پیداوار میں جھونک دیا اور انہیں سخت مظالم کا نشانہ بنایا۔ اٹلی کے بینیٹو مسولینی (Benito Mussolini) نے ایتھوپیا پر قبضے کے دوران اتنے مظالم ڈھائے کہ ملک کی 7 فیصد آبادی کا خاتمہ کر دیا۔ سوویت یونین میں لینن کے جانشین جوزف سٹالن نے ملک کو سپر پاور بنانے کے لیے عوام کو بھٹی میں جھونک دیا۔ سٹالن کے ہاتھوں مارے جانے والے افراد کی تعداد کم اَز کم ایک کروڑ ہے۔ کمبوڈیا کے پول پوٹ (Pol Pot)نے لاکھوں افراد کو خصوصی مراکز میں تشدد کا نشانہ بنا کر موت کے گھاٹ اتارا۔ چلی کے آمر آگسٹو پنوشے (Augusto Pinochet) کے دور میں مخالفین کا غائب ہونا اور انہیں تشدد کا نشانہ بنانا عام تھالیکن انجام کیا ہوا۔ سب کو ایک عبرتناک انجام سے دوچار ہونا پڑا۔
تاریخ ٹرمپ کے نام کو درج بالا لوگوں کے فہرست میں شامل کرتی ہے یا نہیں، یہ ہم تاریخ پر چھوڑ دیتے ہیں، لیکن ایک بات ضرور واضح ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلوں نے پوری دنیا کو تبدیل کر کے رکھ دیا ہے اور ان کے اقدامات نے آدھی سے زیادہ دنیا کو ان کا مخالف بنا دیا ہے جن میں امریکہ کے قریبی پڑوسی لاطینی امریکہ کے ممالک اور ذرا دور کے پڑوسی یورپ والے بھی شامل ہیں۔ قدرت ٹرمپ کو کتنی دیر من مانی کرنے دے گی، یہ فیصلہ بھی وقت پر چھوڑ دیتے ہیں۔ ایران امریکہ چپقلش کیا رُخ اختیار کرتی ہے یہ چند روز میں سامنے آجائے گا۔ فی الحال یہ خدشہ ضرور دامن گیر ہے کہیں ٹرمپ کے جارحانہ بیانات اور فیصلے دنیا کو تیسری عالمی جنگِ عظیم میں جھونک نا دیں