تازہ تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ پلاسٹک کے کپ میں ڈالی جانے والی گرم کافی کولڈ کافی کے مقابلے میں ہزاروں مائیکرو پلاسٹک کے ذرات خارج کر سکتی ہے۔ یہ باریک ذرات انسان کے جسم میں پہنچ سکتے ہیں اور صحت کے لیے مختلف خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔
سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ یہ مائیکرو پلاسٹک ذرات ہارمونز کے توازن کو متاثر کر سکتے ہیں اور ذیا بیطس، سانس کی بیماریاں، تولیدی مسائل اور بعض اقسام کے کینسر کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی واضح ہوا کہ یہ مسئلہ خاص طور پر ایک بار استعمال کیے جانے والے ڈسپوزایبل کپ اور برتنوں میں زیادہ نمایاں ہے۔
عالمی سطح پر ہر سال تقریباً 500 ارب ڈسپوزایبل پلاسٹک کپ استعمال کیے جاتے ہیں، جو اس خطرے کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر ممکن ہو تو گرم مشروبات کو پلاسٹک کے بجائے شیشے، اسٹینلیس اسٹیل یا دیگر محفوظ مواد کے کپ میں استعمال کرنا چاہیے تاکہ جسم میں مائیکرو پلاسٹک کے اثرات کم ہوں۔
تحقیق کاروں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ روزمرہ کی بنیاد پر پلاسٹک میں گرم مشروبات کا استعمال انسانی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، اور اسے کم کرنا ضروری ہے۔ اس ضمن میں محفوظ متبادل استعمال کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ مائیکرو پلاسٹک کے اثرات سے بچا جا سکے