لاڑکانہ کے ’شجر دوست‘، جو پودوں کی نسل تیار کر کے شجرکاری کرتے ہیں

آج سے تقریباً بیس برس قبل مئی کے مہینے میں لاڑکانہ کی سڑکوں پر تھپتی دھوپ برس رہی تھی۔ دھوپ کے عالم میں کہیں چھاؤں کا نشان نہ تھا۔ ایک شہری اپنی خراب موٹرسائیکل کی مرمت میں مصروف تھا جبکہ قریب کھڑی عورتیں شدید گرمی سے نڈھال تھیں۔ رفیق احمد سومرو معمول کے مطابق وہاں سے گزر رہے تھے۔ یہ منظر دیکھ کر وہ پل بھر کے لیے رُکے اور درختوں کی اہمیت پر غور کرنے لگے۔

رفیق احمد سومرو نے اس سے پہلے کبھی ایک پودا بھی نہیں لگایا تھا۔ ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ معمولی سا واقعہ انہیں سانسیں پیدا کرنے جیسے بڑے مقصدِ حیات سے وابستہ کر دے گا اور یوں وہ دنیا کے سامنے ’شجر دوست‘ کے نام سے پہچانے جائیں گے۔

یوں تو پاکستان میں اس شعبے سے کئی افراد وابستہ ہیں، مگر رفیق احمد کا شمار اُن پرانے شجرکاروں میں ہوتا ہے جو محدود وسائل اور کم معاونت کے باوجود مستقل مزاجی سے درخت لگانے کا کام کر رہے ہیں۔ ان کا کام اس لیے بھی منفرد ہے کہ وہ اپنی نرسری میں مقامی پودوں کی نسلیں تیار کر کے انہیں اسکولوں، اسپتالوں، بازاروں اور خالی میدانوں میں لگاتے ہیں۔

تاشقند اردو سے گفتگو کرتے ہوئے رفیق احمد سومرو نے بتایا کہ ابتدا میں انہوں نے پودے خرید کر اسپتالوں میں لگائے، بعد ازاں مدارس اور اسکولوں میں بھی اس کام کا آغاز کیا۔ رفتہ رفتہ جب کام بڑھا تو محدود بجٹ کے باعث اپنی نرسری قائم کی، جہاں وہ گزشتہ بیس برس سے مقامی پودے تیار کر کے مختلف مقامات پر شجرکاری کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔

رفیق احمد کا طریقۂ کار یہ ہے کہ وہ پیپل، برگد اور ارجن جیسے مقامی پودوں کی نسلیں تیار کر کے صرف اُن مقامات پر لگاتے ہیں جہاں ان کی دیکھ بھال کی یقین دہانی ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ ‘میں نے اپنی تنخواہ کا ایک مخصوص حصہ اس کام کے لیے مختص کر رکھا ہے، مگر میرے پاس پودوں کو پانی دینے اور مستقل دیکھ بھال کے لیے اضافی وسائل نہیں ہوتے۔ اس لیے کسی جگہ پودے لگانے سے پہلے وہاں زمین کی کیفیت، پانی کی دستیابی اور دیکھ بھال کرنے والوں کے عزم کا جائزہ لینا ضروری سمجھتا ہوں۔’

ان کے نزدیک شجرکاری کو ہماری ثقافت کا حصہ بنانا ناگزیر ہے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے دوستوں کی سالگرہ کے موقع پر شجرکاری کی مہم شروع کی۔ رفیق احمد کہتے ہیں کہ”پاکستان میں روزانہ ہزاروں افراد اپنی سالگرہ مناتے ہیں۔ اگر ہر شخص اسی دن کم از کم ایک پودا لگانے اور اس کی دیکھ بھال کا عزم کرے تو لاکھوں درخت لگ سکتے ہیں اور ہماری گھٹتی ہوئی گرین بیلٹ بحال ہو سکتی ہے۔”

نرسریوں کے قیام کے لیے رفیق احمد دوستوں کے خالی پڑے پلاٹس استعمال کرتے رہے ہیں۔ 2008 کے بعد وہ اب تک بارہ نرسریاں قائم کر چکے ہیں۔ اس وقت ان کی ایک نرسری اپنے سگے بھائی کی زمین پر موجود ہے، جہاں بیج اور قلم کاری کے ذریعے پودے تیار کیے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق اس نرسری میں سالانہ تقریباً بیس ہزار پودے تیار ہوتے ہیں۔ لاڑکانہ کا شاید ہی کوئی علاقہ ہو جہاں ان کی نرسری کا پودا نہ لگا ہو۔

رفیق احمد کی خواہش ہے کہ وہ پودوں کی اس تعداد کو ہزاروں سے بڑھا کر لاکھوں تک لے جائیں اور اپنے اس مشن کو لاڑکانہ سے پورے پاکستان تک پھیلائیں، تاہم محدود وسائل نے ان کے حوصلوں کے آگے بند باندھ رکھا ہے۔ شجرکاری کے ساتھ ساتھ وہ ہر سال کے آغاز پر پرندے آزاد کرنے کی علامتی تقریب بھی منعقد کرتے ہیں۔

رفیق احمد کی اس لگن اور محنت سے متاثر ہو کر دوستوں نے انہیں ’شجر دوست‘ کا نام دیا، مگر وہ خود کو ’شجر دوست، زخمی پاکستانی‘ کہلوانا پسند کرتے ہیں۔ اس کی وجہ پوچھنے پر ان کا کہنا تھا کہ "دہائیوں پر محیط اس کام کے باوجود کوئی مجھے اپنانے کو تیار نہیں۔ کسی حکومت یا سرکاری ادارے نے مدد تو درکنار، آج تک حوصلہ افزائی بھی نہیں کی۔”

Author

اپنا تبصرہ لکھیں