ڈھاکا: پاک بھارت تعلقات میں غیر متوقع سفارتی پیشرفت

ڈھاکا کی خاموش فضا میں ایک ایسا لمحہ وجود میں آیا جس نے برصغیر کی سیاست میں برسوں سے جمے ہوئے جمود پر ہلکی سی دستک دی۔ ایک طرف تعلقات کی سرد مہری، سرحدی کشیدگی اور چند ماہ قبل کی جنگی فضا کی تلخ یادیں تھیں، تو دوسری طرف اسی پس منظر میں بھارتی وزیر خارجہ ایس۔ جے شنکر کا جذبۂ پیش قدمی، جو خود چل کر پاکستان کے اسپیکرِ قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے ملے، مصافحہ کیا اور خوشگوار جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ یہ منظر ایک معمولی سماجی ملاقات نہیں تھا، بلکہ ایسے وقت میں پیش آیا جب دونوں ریاستیں سفارتی سطح پر تقریباً مکمل خاموشی کی کیفیت سے گزر رہی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس مختصر لمحے کو سیاسی حلقوں نے ایک معنی خیز علامت کے طور پر دیکھا گویا برف کی دبیز تہہ کے اندر کہیں کوئی ہلکی سی دراڑ ابھر آئی ہو۔

یہ ملاقات بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم بیگم خالدہ ضیاء کی تدفین کے موقع پر ہوئی، جہاں مختلف ممالک کی سیاسی و حکومتی شخصیات شریک تھیں۔ سردار ایاز صادق جب تعزیت کے لیے موجود تھے، تو جے شنکر نہ صرف ان کے قریب آئے بلکہ اپنے تعارف کے ساتھ اس بات کا بھی اظہار کیا کہ وہ اسپیکر پاکستان کی شخصیت اور کردار سے آگاہ ہیں۔ اس لمحے کی سنجیدگی کے باوجود دونوں رہنماؤں کے درمیان جو نرم لہجے اور شائستہ مکالمے کا تبادلہ ہوا، وہ دراصل اس بات کی جھلک تھا کہ سیاست کے دباؤ سے ہٹ کر بھی انسانی سطح پر مکالمہ باقی رہ سکتا ہے۔ سفارت کاری کی دنیا میں بعض اوقات یہی غیر رسمی پل مستقبل کے روابط کی بنیاد بن جاتے ہیں۔

یہ رابطہ اس لیے بھی اہمیت اختیار کر گیا کہ مئی میں ہونے والی پاک بھارت جنگ کے بعد دونوں ملک نہ صرف سفارتی سطح پر بتدریج فاصلے اختیار کر چکے تھے بلکہ ہر قسم کے رسمی مکالمے تقریباً معطل ہو چکے تھے۔ دونوں دارالحکومتوں میں بیانات سخت، ماحول کشیدہ اور عوامی سطح پر نفسیاتی فاصلے گہرے ہوتے جا رہے تھے۔ اس پس منظر میں جے شنکر کا خود چل کر آگے آنا محض ایک سماجی حرکت نہیں بلکہ ایک خاموش سفارتی اشارہ محسوس ہوا ایک ایسا اشارہ جو یہ بتاتا ہے کہ ٹوٹے ہوئے مکالمے کبھی مکمل مر نہیں جاتے، بلکہ کسی نہ کسی موقع پر دوبارہ سانس لینے لگتے ہیں۔

دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ جنگ کے بعد بھارت نے اپنی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کو پاکستانی کھلاڑیوں سے مصافحے سے روکے رکھا، گویا اسٹیڈیم تک سفارتی کشمکش کے اثرات پہنچ چکے تھے۔ مگر اسی خطے میں دیگر کھیلوں کے میدانوں میں کھلاڑی ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتے رہے اس منظرنامے میں ڈھاکا کا یہ مصافحہ محض دو ہاتھوں کا ملاپ نہیں بلکہ ایک ایسی علامتی حرکت تھی جس نے یاد دلایا کہ تعلقات خواہ کتنے ہی کشیدہ کیوں نہ ہوں، بات چیت کے دروازے کبھی مکمل بند نہیں ہوتے۔

سردار ایاز صادق نے اس موقع پر بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر ڈاکٹر یونس سے بھی ملاقات کی اور بیگم خالدہ ضیاء کی رہائش گاہ جا کر ان کے اہلِ خانہ سے تعزیت کی، جہاں انہوں نے پاکستانی حکومت، پارلیمنٹ اور عوام کی جانب سے افسوس اور ہمدردی کا پیغام پہنچایا۔ یہ پہلو اس امر کی یاد دہانی بھی تھا کہ جنوبی ایشیا کی سیاست میں انسانی رشتوں، تاریخی روابط اور مشترکہ دکھ سکھ کا حوالہ اب بھی برقرار ہے۔ جنازے اور تعزیت جیسی انسانی نوعیت کی رسومات اکثر ایسی نرم فضا پیدا کرتی ہیں جہاں سیاسی فاصلوں کے باوجود دلوں تک رسائی کا راستہ نکل آتا ہے۔

سیاسی و سفارتی مبصرین کے نزدیک یہ ملاقات دراصل ’’غیر متوقع قربت‘‘ کا ایک مظہر تھی۔ دونوں ممالک کے بیانیے ایک دوسرے کے خلاف سخت ترین مؤقف اپنائے ہوئے تھے، میڈیا میں تلخی گہری تھی، مگر ڈھاکا کے اس پرسکون ماحول میں دونوں رہنماؤں کا مسکراتے ہوئے مصافحہ سفارت کاری کے ایک خاموش باب کی طرف اشارہ کر رہا تھا۔ اکثر اوقات تاریخ یہی بتاتی ہے کہ بڑی پیش رفتیں بند کمروں کی مذاکراتی میزوں پر نہیں بلکہ ایسے غیر رسمی لمحات سے جنم لیتی ہیں جنہیں ابتدا میں محض سماجی رسومات سمجھا جاتا ہے۔

یہ بھی قابل ذکر ہے کہ جے شنکر اس سے قبل پاکستان میں منعقد ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شریک ہو چکے تھے جہاں ان کی ملاقات پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ہوئی تھی۔ یوں یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ دونوں ریاستوں کے اعلیٰ عہدیدار کسی بین الاقوامی فورم کے تناظر میں ایک دوسرے سے ملے ہوں، مگر مئی کے بعد کی کشیدہ فضا نے اس ملاقات کو ایک خصوصی معنویت عطا کر دی۔ یوں محسوس ہوا کہ سرکاری سطح پر منقطع چینلز کے باوجود خطے کی سیاسی حقیقتیں فریقین کو نئے روابط سے مکمل طور پر لاتعلق رہنے نہیں دیتیں۔

یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا یہ مصافحہ مستقبل میں کسی عملی سفارتی مکالمے یا اسٹرکچرل رابطے میں بدل سکے گا؟ فی الحال اس کا جواب فوری طور پر دینا ممکن نہیں، تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ برف پگھلنے کی شروعات ہمیشہ کسی علامتی لمحے ہی سے ہوتی ہے۔ کبھی ایک مسکراہٹ، کبھی ایک نرم جملہ، کبھی ایک تعزیتی ملاقات یہی وہ چھوٹے پل ہیں جو بڑے فاصلے سمیٹنے میں پہلا قدم ثابت ہوتے ہیں۔

پاکستان اور بھارت کی تاریخ ہمیشہ تضادات سے بھری رہی ہے کشیدگی اور مکالمہ، فاصلہ اور قربت، جنگ اور سفارت سب ایک دوسرے کے ساتھ چلتے رہے۔ ہر دور میں کچھ مواقع ایسے آئے جب دشمنی کے بیچ بھی مکالمے کی ہلکی سی کرن نمودار ہوئی۔ ڈھاکا کی یہ ملاقات بھی اسی سلسلے کی ایک خاموش قسط معلوم ہوتی ہے۔ شاید آنے والے وقت میں یہ محض ایک یادگار واقعہ بن کر رہ جائے، اور شاید یہی وہ لمحہ ثابت ہو جس نے کسی نئے باب کی بنیاد رکھی تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ بعد میں ہوتا ہے۔

فی الحال اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اس خطے کے عوام جنگی فضا کے بجائے مکالمے، استحکام اور تعاون کے متمنی ہیں۔ اگر سیاسی قیادتیں ان خاموش اشاروں کو سمجھ سکیں، تو ممکن ہے کہ ایک دن یہی مصافحہ مستقبل کے کسی بڑے اور بامعنی سفارتی رابطے کا آغاز تصور کیا جائے۔ دنیا کی سیاست میں امید ہمیشہ کمزور نظر آتی ہے، مگر وہی کمزور سی لکیر کبھی کبھی طاقتور ترین بنیاد بن جاتی ہے شاید یہی وہ امکان ہے جو ڈھاکا کے اس لمحے نے ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے

Author

اپنا تبصرہ لکھیں