صارم پانچویں جماعت کا ذہین اور خوش مزاج طالبعلم ہے۔ نئی کلاس میں آنے کے بعد اب اس کا بیگ چھوٹا پڑ رہا تھا. وعدے کے مطابق اس کے بابا نے اسے اس سال نیا بیگ دلا دیا ۔ ہر روز وہ صبح جلدی اٹھ کر اسکول کے لیے تیار ہوتا ۔ اپنے بڑے سے بیگ کو کھینچتا سنبھالتا اسکول کی جانب روانہ ہوتا ، اُس کی کلاس دوسری منزل پرہے، جہاں تک پہنچنے کے لیے سیڑھیاں چڑھنا پڑتی ہیں۔ شروع میں تو سب معمول کا لگتا تھا، لیکن کچھ ہفتوں کے بعد صارم کو سیڑھیاں چڑھتے وقت کمر میں درد محسوس ہونے لگا۔ وہ تھوڑا سا جھک کر چلنے لگا، اور اُس کا جسمانی توازن بھی بگڑنے لگا۔ والدین نے بھی نوٹس کیا کہ وہ کمر میں درد کی بھی شکایت کرنے لگا ہے ۔ جب اسے ڈاکٹر کو دکھایا تو رپورٹ آئی کہ اُس کی ریڑھ کی ہڈی پر دباؤ پڑ رہا ہے۔ ڈاکٹر نے وضاحت کر دی کہ یہ سب اُس کے بھاری بیگ کی وجہ سے ہو رہا ہے، جو وہ روزانہ اسکول لے جاتا ہے۔ اس کی ہڈی کی ساخت متاثر ہو رہی ہے۔
یہ ایک سچی کہانی ہے، خاندان ہی کا ایک واقعہ ہے، مگر یہ سب خلیج ٹائمز میں چھپنے والے ایک آرٹیکل کو دیکھ کر یاد آ گیا۔ خلیج ٹائمز (22 جولائی 2025) میں ایک رپورٹ شائع ہوئی جس میں متحدہ عرب امارات کے مختلف اسکولز کی جانب سے ٹرالی بیگز پر پابندی کا ذکر کیا گیا۔ ڈاکٹروں اور والدین کی رائے میں یہ بیگز نہ صرف خطرناک انداز میں گھسیٹے جاتے ہیں بلکہ سیڑھیاں چڑھتے وقت بچوں کی کمر اور گردن پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔
ماہرینِ اطفال اور فزیو تھراپسٹ کہتے ہیں کہ بچوں کے بیگ کا وزن ان کے جسمانی وزن کا 10–15٪ سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ یعنی پانچویں چھٹی کے بیشتر طلبہ کا وزن چالیس سے پنتالیس چھیالیس کلوگرام ہوتا ہے تو ان کا بیگ چار پانچ کلو سے زیادہ نہ ہو۔ پاکستان میں پرائمری کلاسز کا بیگ بھی دس سے بارہ تیرہ کلو وزنی ہوچکا ہے۔
اسکول بیگز کا وزن ایک ایسا مسئلہ بن چکا ہے جو نہ صرف جسمانی نقصان پہنچا رہا ہے بلکہ بچوں کی تعلیمی کارکردگی اور ذہنی سکون پر بھی اثرانداز ہو رہا ہے۔ اکثر بیگ ایسے لگتے ہیں جیسے بچے اسکول نہیں جا رہے کسی دوسرے علاقے میں ہجرت کر رہے ہوں ۔
عالمی سطح پر اس کا حل کیسے نکالا گیا؟
یورپ امریکہ میں تو ڈیجیٹل تعلیم ایک بہترین حل ہے ۔ بچوں کو کروم بکس یا ٹیبلٹس دیے جاتے ہیں بیگ ہلکا، بچے چاق چوبند ۔ پاکستان اور بھارت جیسے ممالک میں مکمل طور پر شائد ممکن نہیں ہو ۔ لیکن کافی حد تک ایسا ہو سکتا ہے ۔
لاکر سسٹم
جب سے ڈیجٹل سٹریمنگ پلیٹ فارمز پر ان گنت فلمیں اور سیریز دیکھی ہیں تب سے دیکھ رہے ہیں کہ سکول لیول کی ہر کہانی میں بچوں کے پاس لاکر ہوتے ہیں ۔ جو وه اپنی مرضی سے سجاتے بھی ہیں اور سکول میں اپنے سٹور کے طور پر استعمال بھی کرتے ہیں ۔ اس طرح کتابیں اسکول میں رہتی ہیں ۔ بچہ صرف وہی لے کر آتا ہے جن ضرورت ہو ۔ اسکول لاکرز بچوں کے لیے بھی ضروری ہیں تاکہ ہر چیز ہر روز کندھے پر نہ لادنی پڑے۔ یہ سکولز میں ایک بار کا خرچہ ضرور ہے لیکن بہرحال یہ ایک بہترین حل ہے ۔ پاکستان میں پاک ترک جیسے سکولوں نے چھوٹی کلاسز میں یہ تجربہ کیا کہ بچوں کو لاکرز لے دئیے۔ ہمارے نجی اور سرکاری سکولوں کو اس حوالے سے کچھ سوچنا چاہیے ۔
مختصر نصاب:
یورپ میں اکثر ایک کتاب کے تین حصے بنا دیے جاتے ہیں تاکہ ایک وقت میں صرف ایک ہی ساتھ لایا جا سکے ۔ ہمارے ہاں بھی کچھ اچھے سکول ایسا ہی نصاب پڑھا رہے ہیں جہاں ہر مضمون کے دو یا دو سے زیادہ حصوں پر مشتمل کتاب ہے لیکن کلاسز اس طرح ڈیزائن نہیں کی جاتیں کہ بچوں کے بیگ کا وزن کچھ کم ہو پائے ۔
تاہم بعض مائیں یہ بھی شکایت کرتی ہیں کہ جب ہم نے بیگ کا وزن کم کروانے کے لیے سکول کے دیئے گئے شیڈول کے مطابق کتابیں نکلوائی، پتہ چلا ٹیچر نے اس روز اسی کتاب سے کام کروایا جو گھر پر تھی ۔ اور تو اور جو ہفتہ وار شیڈول میں کسی مضمون کا دن نہیں تھا تو کتاب نکلوا دی اور ٹیچر کو یاد آیا کہ آج کچھ منٹ اس مضمون کو دینے چاہیں جس کا آج دن ہی نہیں ۔ یوں بچے کوئی بھی کتاب بیگ سے نکالنے پر ہی نہیں راضی ہوتے کہ کیا معلوم کب ضرورت پڑ جاۓ ۔ اس کا حل یہی ہے کہ سکول اپنے طے شدہ شیڈول پر ہی سختی سے قائم رہیں۔
نو بیگ ڈے:
ہفتے میں ایک آدھ دن مکمل بیگ فری دن بھی ہونا چاہیے ۔ کم از کم ایک دن بچوں کو بیگ کے بوجھ سے نجات ملے ۔ اصل میں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ صارم کی کہانی کسی ایک بچے کی نہیں یہ اُن لاکھوں بچوں کی کہانی ہے جو ہر روز علم کے نام پر بوجھ ڈھوتے ہیں۔ بیگ کا وزن صرف کندھے پر نہیں ہوتا، کبھی کبھی زہنوں اور مسکراہٹوں پر بھی آ جاتا ہے۔ بوجھ کی دنیا کو کسی بھی طور کم ہونا چاہیے ۔