برطانوی اخبار کی حالیہ رپورٹ نے مشرقِ وسطیٰ کی خفیہ جنگوں کے اس تاریک گوشے پر روشنی ڈالی ہے جہاں گولیاں کم اور الگورتھم زیادہ استعمال ہوتے ہیں۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو ہدف بنانے کے لیے ایک طویل المدتی، کثیرالجہتی اور نہایت منظم انٹیلی جنس مہم ترتیب دی، جس میں سائبر دراندازی، ڈیجیٹل نگرانی، مواصلاتی نظام میں مداخلت اور انسانی ذرائع سے حاصل کردہ معلومات کو باہم جوڑ کر ایک ایسا جامع ڈیٹا بیس تشکیل دیا گیا جو برسوں کی منصوبہ بندی کا نچوڑ تھا۔ اگر ان دعوؤں کو ان کے سیاق و سباق میں دیکھا جائے تو یہ محض ایک انفرادی کارروائی نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس ریاستی حکمتِ عملی کی مثال معلوم ہوتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق تہران کے ٹریفک کیمروں تک رسائی حاصل کر کے ان کی ویڈیوز کو خفیہ سرورز تک منتقل کیا جاتا رہا۔ بظاہر معمولی دکھائی دینے والا یہ قدم درحقیقت نگرانی کی ایک وسیع تر زنجیر کا حصہ تھا۔ شہری کیمرے، جو عام طور پر ٹریفک نظم و ضبط کے لیے نصب کیے جاتے ہیں، اگر کسی بیرونی قوت کے ہاتھ لگ جائیں تو وہ روزمرہ نقل و حرکت کا ایسا نقشہ فراہم کر سکتے ہیں جس سے حفاظتی انتظامات کی پرتیں کھولی جا سکیں۔ مبینہ طور پر ایک مخصوص کیمرے کے زاویے سے یہ جاننے میں مدد ملی کہ محافظ اپنی ذاتی گاڑیاں کہاں کھڑی کرتے ہیں، کون سا راستہ اختیار کرتے ہیں اور کب ڈیوٹی پر آتے جاتے ہیں۔ یہی وہ معلومات ہیں جنہیں انٹیلی جنس کی زبان میں “پیٹرن آف لائف” کہا جاتا ہے یعنی کسی فرد یا گروہ کے معمولات کا مسلسل مشاہدہ کر کے اس کی پیش گوئی کے قابل تصویر بنانا۔
یہاں ٹیکنالوجی کا کردار فیصلہ کن دکھائی دیتا ہے۔ پیچیدہ الگورتھمز کے ذریعے اربوں ڈیٹا پوائنٹس کا تجزیہ کر کے ہر سکیورٹی اہلکار کی ایک مفصل پروفائل تیار کی گئی: رہائش گاہ، روزمرہ کے راستے، ڈیوٹی کے اوقات، حتیٰ کہ وہ کس شخصیت کی حفاظت پر مامور رہتے ہیں۔ ڈیجیٹل دنیا میں بکھری ہوئی معلومات کو جوڑ کر جب ایک مربوط خاکہ بنایا جاتا ہے تو وہ کسی بھی سخت نگرانی والے نظام میں دراڑ پیدا کر سکتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ انسانی ذرائع سے حاصل شدہ اطلاعات بھی شامل ہوں تو تصویر مزید واضح ہو جاتی ہے۔ یہی امتزاج جدید انٹیلی جنس آپریشنز کی بنیاد ہے سائبر، سگنلز اور ہیومن انٹیلی جنس کا اشتراک۔
رپورٹ میں موبائل ٹاورز کو جزوی طور پر غیر فعال کرنے کا ذکر بھی ملتا ہے، جس کا مقصد بظاہر یہ تھا کہ حفاظتی عملہ بروقت انتباہ سے محروم رہے۔ مواصلاتی نظام میں معمولی خلل بھی فیصلہ کن لمحوں میں بڑی تبدیلی لا سکتا ہے۔ جدید سکیورٹی ڈھانچے فوری رابطے، خفیہ کوڈز اور ریئل ٹائم الرٹس پر انحصار کرتے ہیں؛ اگر یہ زنجیر کمزور پڑ جائے تو حفاظتی حصار کی افادیت متاثر ہو سکتی ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو یہ محض ایک حملہ نہیں بلکہ ایک مکمل آپریشنل ماحول کی تیاری تھی، جس میں ہدف کے گرد موجود ہر پرت کو الگ الگ سمجھا اور کمزور کیا گیا۔
اہم سوال یہ ہے کہ کیا واقعی اس نوعیت کی مہم برسوں تک بغیر انکشاف کے جاری رہ سکتی ہے؟ تاریخ گواہ ہے کہ ریاستیں اپنے تزویراتی مفادات کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی کرتی رہی ہیں۔ سن 2001 میں مبینہ طور پر اعلیٰ سطح پر ایران کو اولین ہدف قرار دینے کا فیصلہ، اگر درست مان لیا جائے، تو یہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ پالیسی اور انٹیلی جنس کے درمیان گہرا ربط موجود تھا۔ سیاسی عزم کے بغیر اس قدر وسیع سائبر اور تکنیکی سرمایہ کاری ممکن نہیں۔ تاہم اس طرح کی رپورٹس کی تصدیق ہمیشہ مشکل ہوتی ہے، کیونکہ خفیہ دنیا میں سچ اور مفروضہ اکثر ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتے ہیں۔
اس پوری کہانی کا ایک اور پہلو شہری انفراسٹرکچر کی کمزوری ہے۔ اسمارٹ سٹیز، سی سی ٹی وی نیٹ ورکس، بگ ڈیٹا اور کلاؤڈ سرورز نے جہاں سہولتیں فراہم کی ہیں وہیں خطرات بھی بڑھائے ہیں۔ اگر واقعی کسی ملک کے ٹریفک کیمرے بیرونی رسائی کا شکار ہو جائیں تو یہ صرف ایک شخصیت کا نہیں بلکہ قومی خودمختاری کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ سائبر سکیورٹی اب سرحدی دفاع جتنی اہم ہو چکی ہے۔ دفاعی حکمتِ عملی میں روایتی اسلحہ کے ساتھ ساتھ کوڈ، سرور اور ڈیٹا سینٹر بھی شامل ہو چکے ہیں۔
یہ رپورٹ اس امر کی بھی عکاس ہے کہ مستقبل کی جنگیں خاموش اور غیر مرئی ہوں گی۔ گولی چلنے سے پہلے ڈیٹا جمع ہوتا ہے، پیٹرن بنائے جاتے ہیں، خطرات کا ماڈل تیار کیا جاتا ہے اور پھر عین وقت پر کارروائی کی جاتی ہے۔ اس عمل میں انسانی کردار ختم نہیں ہوتا بلکہ اس کی نوعیت بدل جاتی ہے: مخبر، تجزیہ کار اور سائبر ماہر ایک ہی زنجیر کے مختلف حلقے بن جاتے ہیں۔ اگر کسی رہنما کی میٹنگ کے وقت اور شرکا کی پیشگی اطلاع دستیاب ہو تو یہ معلومات خود ایک ہتھیار بن جاتی ہیں۔
البتہ ان تمام دعوؤں کے بیچ احتیاط لازم ہے۔ خفیہ آپریشنز سے متعلق اطلاعات اکثر محدود ذرائع پر مبنی ہوتی ہیں اور ان میں مبالغہ یا سیاسی مقاصد کا احتمال بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔ ایک ذمہ دارانہ تجزیہ یہی تقاضا کرتا ہے کہ ایسے انکشافات کو حتمی حقیقت نہیں بلکہ زیرِ بحث دعویٰ سمجھا جائے، جب تک کہ آزادانہ اور کثیرالجہتی شواہد دستیاب نہ ہوں۔ پھر بھی، اگر اس رپورٹ کا کچھ حصہ بھی درست ہو تو یہ اس امر کا اشارہ ہے کہ ریاستی طاقت کی تعریف بدل چکی ہے۔
بالآخر، اس داستان سے جو سب سے بڑا سبق ابھرتا ہے وہ یہ ہے کہ جدید دور میں طاقت کا محور معلومات ہیں۔ جو فریق ڈیٹا اکٹھا کرنے، اس کا تجزیہ کرنے اور اسے بروقت استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، وہ میدان میں سبقت لے جاتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی پیچیدہ سیاست میں جہاں عسکری تصادم پہلے ہی معمول بن چکے ہیں، وہاں ڈیجیٹل محاذ کی شدت مزید عدم استحکام کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ یہ محض ایک ملک یا ایک رہنما کا معاملہ نہیں بلکہ عالمی نظام کے اس نئے مرحلے کی جھلک ہے جہاں خفیہ جنگیں کیمروں، کوڈز اور سرورز کے ذریعے لڑی جاتی ہیں، اور ان کے اثرات سرحدوں سے کہیں آگے تک محسوس کیے جاتے ہیں۔