مالش اور پالش

زندگی سے زیادہ کوئی بے وفا اورموت سے بڑی کوئی سچائی نہیں۔ بزدل انسان تواپنے محلات کی آرام گاہوں یا بم پروف پناہ گاہوں میں بھی مرجاتے ہیں جبکہ شہادت نے ہمیشہ بہادروں کا انتخاب کیاہے۔ہم اپنے عزیز و اقارب کو ”عارضی“ زندگی میں کسی ”عارضہ“ سے بھی مرتے دیکھتے ہیں لیکن شہادت کا جام نوش کرنے سے انسان زندہ جاوید رہتا ہے لہٰذاء اس ”عارضی“ زندگی کیلئے احکامات الٰہی سے انحراف کرکے معبود برحق کی ”ناراضی“ مول نہیں لی جا سکتی کیونکہ جہاں جہاد ناگزیر ہو وہاں اجتہاد کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں شہادت ایک انعام اور شہید کا بڑا مقام ہے۔ شہزادہ کونین حضرت امام حسین ؑ اپنی نسبت، قسمت اور شہادت کے اعتبار سے قابل رشک ہیں، ان کے ساتھ والہانہ عقیدت ہمارا بنیادی عقیدہ ہے۔ نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحبہٰ و بارک وسلم نے اپنے مقدس خون سے یذیدیت کیخلاف جومزاحمت کی مشعل روشن فرمائی تھی اسے دنیا کی کوئی طاقت نہیں بجھا سکتی۔ فلسفہ حسینیت ؑ پراستقامت جبکہ باطل کیخلاف آبرومندانہ مزاحمت کا”راستہ“آج بھی کامیابی وکامرانی اورنیک نامی سے ”آراستہ“ ہے۔پلید یذید کی بیعت یا اطاعت سے انکار کی صورت میں ان کے ساتھ کیا ہوگا، حضرت امام حسین ؑ کو اس حقیقت کاادراک تھا لہٰذاء انہوں نے دنیا کی بجائے دین کاراستہ چنا،عزت دار شہزادہ کونین ؑنے مصلحت کی بجائے حمیت اور مزاحمت کاانتخاب کیا۔حضرت امام حسین ؑنے اپنی شہادت سے اپنے نانا اوربابا کوسرفرازجبکہ اسلام کاپرچم سربلند کردیا۔ حضرت امام حسین ؑ نے دادشجاعت اورہمت کامظاہرہ کرتے ہوئے جس شان سے جام شہادت نوش کیا اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔اُن کی شہادت کے دن سے دنیا میں دوکیمپ چلے آرہے ہیں، اِن میں سے ایک حسینیت ؑ اوردوسرا یذیدیت ہے، اِن دوکے سوا تیسراکوئی دھڑا یاعقیدہ نہیں۔ جوحسینی ؑ نہیں وہ یذیدی اوراس کے اندرپلیدی ہے،یذیدیت کے پیروکار آج بھی شیطانیت کاپرچم تھامے ہوئے ہیں۔ ”سادات“ کیلئے راہ حق میں شہادت قابل رشک ”سعادت“ ہے۔ شہادت کاشوق توسادات کی رگ رگ میں دوڑتا ہے، وہ توموت کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتے ہوئے بڑے ہوتے ہیں۔ ایران کے سپریم لیڈر سیّد آیت اللہ علی خامنہ ای ؒ کی شہادت ایران کے شجاعت اور حمیت سے بھرپور کردار کی شہادت ہے، اس ”شہادت“ نے کئی ”شبہات“ کو مٹا دیا۔ ایرانیوں کیلئے اس شجرسایہ دار اورسرمایہ افتخار کو طاغوت کی اطاعت نہ کرنے کی پاداش میں منظرسے ہٹایاگیا، امریکہ اوراسرائیل اپنے مذموم ایجنڈے کی تکمیل کیلئے ایران میں رجیم تبدیل کرنے کے خواہاں اوراس کیلئے کوشاں ہیں لیکن ناکامی اوربدنامی ان کامقدربنے گی۔امریکہ کی اسٹیبلشمنٹ کوعراق اورایران کے عوام کی قوت مدافعت اورمزاحمت میں بنیادی فرق سمجھ نہیں آیا۔عراق کے صدام حسین شہیدایک حکمران جبکہ ایران کے سیّد آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ؒ روحانی پیشواہونے کے ساتھ ساتھ ہردلعزیزسپریم لیڈربھی تھے۔عراق میں صدام حسین شہیدکے عدالتی قتل کاانتقام نہیں لیاگیا لیکن ایران کی قوم اپنے سپریم لیڈر اوران کے اہل خانہ کی اجتماعی شہادت پرسیاست نہیں کرے گی،یقینا سادات کاخون رائیگاں نہیں جائے گا۔

ایران کے سپریم لیڈر سیّد آیت اللہ علی خامنہ ای ؒ نے اپنی اوراپنوں کی بیش قیمت زندگی کو شدید ترین خطرہ درپیش ہونے کے باوجود کسی زیرزمین محفوظ عمارت میں پناہ نہیں لی بلکہ حسینیت ؑ کے ساتھ اپناعہد وفانبھاتے ہوئے اپنے دونوں بازوؤں کے ساتھ شہادت کااستقبال کیا اورحضرت امام حسین ؑ کی سنت ادا کردی۔ان کاپرنور چہرہ اورپرجوش عزم ایران کے عوام کیلئے روحانیت اورنورانیت کااستعارہ تھا۔وہ بظاہرایک ”باریش“ لیڈر لیکن فطری طورپر سودوزیاں سے بے نیاز”درویش“ تھے، ان کی اپنے محبوب وطن ایران کے ساتھ ”وابستگی“نے ”وارفتگی“ کاروپ دھار لیا تھا۔میں انہیں ضعیف نہیں کہتا کیونکہ انہوں نے کئی دہائیوں سے اپنے شانوں پربڑی شان سے ایران کی”گراں قدر“ قیادت کا”بارگراں“ اٹھایا ہوا تھا۔قرآن مجید فرقان حمید کی مقدس”آیات“ سیّد”آیت“ اللہ ؒ کوازبر تھیں اوروہ ایک بہترین مقرر تھے۔ان کی طرف سے الفاظ کاچناؤ اوران کے لہجے کاسحر سامعین کوسحرانگیز کردیتا تھا۔ ایران کے سپریم لیڈر سیّد آیت اللہ علی خامنہ ای ؒ کی مدبرومخلص قیادت میں ان کے ہموطن متحد اوردفاع وطن کیلئے مستعد تھے،ان کی شہادت سے جو خلاء پیدا ہوا ہے وہ کوئی دوسرا پر نہیں کرسکتا۔تاہم ان کی شہادت کے باوجود”ایران“ ناتواں یا ”ویران“ نہیں ہوگا، کئی دہائیوں سے جاری مختلف پابندیوں کے باوجود ایران اپنے دشمنوں کوحیران اورپریشان کررہا ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر سیّد آیت اللہ علی خامنہ ای ؒ کی بینظیر شہادت ان کے ہموطنوں کو مزیدمستعد، متحد اورمنظم کردے گی۔یادرکھیں ہرقوم میں مٹھی بھر گمراہ لوگ ضرور پائے جاتے ہیں، پچھلے دنوں ایران میں ہونیوالے پرتشدد مظاہروں میں شریک مخصوص افراد بیرونی قوتوں کے وظیفہ خور اورسہولت کارتھے،ان میں سے زیادہ تر یقینا آج پچھتا رہے ہوں گے۔امریکہ اوراسرائیل غداروں اورسہولت کاروں کی مدد کے بغیرایران کے سپریم لیڈر سیّد آیت اللہ علی خامنہ ای ؒ کو شہید نہیں کرسکتے تھے۔ایران کی رنجیدہ،سنجیدہ اورفہمیدہ قیادت اپنے سپریم لیڈر سیّد آیت اللہ علی خامنہ ای ؒ کی شہادت کا امریکہ اوراسرائیل سے انتقام ضرورلے گی۔

جومخصوص طبقہ ایران کوامریکہ کے زیراثرکہتا تھا وہ شرم سے ڈوب مرے۔طاغوت کیخلاف اسلامی ریاست ایران کی ہوشربا مزاحمت اورسپریم لیڈر سیّد آیت اللہ علی خامنہ ای ؒ کی بینظیر شہادت نے کئی دہائیوں سے دہرائے جانیوالے واہیات اور بکواسیات پرمبنی بیانیہ کو سمندر برد کردیاہے۔میں نے کبھی ایران بارے بیہودہ باتوں پرکان نہیں دھرا، راقم کے نزدیک ایران میں عوام نہیں ایک قوم کاڈیرہ اوربسیراہے۔ ایران کیخلاف یہودو نصاریٰ کے گٹھ جوڑ اور متعصبانہ ہتھکنڈوں نے ایرانیوں کو متحد کرنے میں کلیدی کرداراداکیا۔امریکہ اوراسرائیل نے ایران کودیوار کے ساتھ لگانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی لہٰذاء ایرانیوں نے اپنی بقاء اوربہبودکیلئے اپنے اپنے پیٹ پرپتھر باندھ لیااوراپنے دفاع کیلئے جدیدہتھیار،ڈرونز اورمیزائل بنانے پرفوکس کیا۔ایران کی قیادت اورقوم نے مختلف منافقانہ اورآمرانہ پابندیوں کے بعدا پنی بنیادی ضروریات اورخواہشات پرسمجھوتہ کرلیا لیکن اپنے دفاع پرکسی قسم کاکوئی کمپرومائز نہیں کیا۔جس طرح ماضی میں امریکہ کی عراق میں مداخلت جائز نہیں تھی اس طرح ایران کیخلاف جارحیت بھی کوئی جواز نہیں رکھتی۔ ایک ایٹمی ملک جس نے 6اور9اگست1945ء کو جاپان پر دو بار نیوکلیئر بم گرایااورہزاروں بیگناہ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا ہو،کیاوہ ایران سمیت کسی آزاد ملک کوایٹمی طاقت بننے سے روک سکتا ہے۔امریکہ پٹرول کیلئے انسانوں کاخون بہانا اورانہیں موت کے گھاٹ اتارنا بندکرے۔جس وقت روس، فرانس،برطانیہ اور بھارت ایٹمی طاقت بن رہے تھے توان میں سے کسی کو بھی امریکہ کی طرف سے رکاوٹ یامداخلت کاسامنا نہیں کرنا پڑا لیکن پاکستان کی”باری“ امریکہ نے نام نہاد”یاری“ کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اسلام آباد کوایٹمی تجربات سے روکنے کیلئے اپناپورا”زر“اور”زور“ لگادیا تھا۔امریکہ نے ایک بار بھی اپنے بغل بچے اسرائیل کو اپنانیوکلیئر پروگرام بندکرنے کیلئے نہیں کہا تھالہٰذاء ایران پراس کابیجا دباؤ دوہرے معیار کا شاخسانہ ہے۔

امریکہ وضاحت کرے اسے کسی بھی اسلامی ریاست کے ایٹمی طاقت بننے سے پرابلم کیوں ہے۔اگرامریکہ اپنے اتحادی اسرائیل کے نیوکلیئر بم اپنی تحویل میں نہیں لے سکتا توپھرایران پرعائدپابندیاں فوری ختم، تہران پر حملے بندجبکہ سیّد آیت اللہ علی خامنہ ای ؒ اورایران کی نوعمر166بیٹیوں کی شہادت پرباضابطہ معذرت اورا پنی مذموم جارحیت کامداواکرے۔امریکہ کسی بدنام زمانہ تھانیدار کی طرح پچھلی کئی دہائیوں سے دنیا پراپنی دھونس جماتا آرہا ہے،اس نے جس ریاست میں بھی مداخلت کی اسے اپنی نحوست سے برباد کردیا۔امریکہ ایک بار پھر ایران کیخلاف جارحیت کے نتیجہ میں دنیا بھر سے”نفرت“ سمیٹ رہا ہے جبکہ اس معرکے میں ”نصرت“ ایران کامقدر بنے گی۔ایران کے عوام فلسفہ حسینیت ؑ کے علمبردار اوروارث ہیں،وہ مردانہ وارمزاحمت کرتے ہوئے اپنے دشمن کاصفایا اورخود بھی جام شہادت نوش کرتے رہیں گے لیکن ان سے کوئی ایک بھی عہدحاضر کے یذید کے روبرو سرنڈر نہیں کرے گا۔عراق،لیبیاء،افغانستان،شام،لبنان اورایران سمیت متعدد ملک اپنے اسلامی نظریات کی قیمت چکارہے ہیں۔اسلام کے مختلف الخیال دشمن اپنے مذموم مشن کیلئے متحد جبکہ دنیا کے دوارب مسلمان مسلسل لیکن باری باری بھاری نقصان برداشت کرنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی رسی مضبوطی سے نہیں تھام سکے۔بدقسمتی سے توحید کے علمبردارمسلمانوں نے”اتفاق“ کادرس فراموش کرتے ہوئے ”نفاق“ کادامن تھام لیا ہے۔ ہمارے معاشروں سے توجنگل اچھے ہیں،وہاں بڑے سے بڑا خونخواردرندہ بھی صرف بھوک مٹانے کیلئے شکار کرتا ہے جبکہ ہماری دنیامیں مخصوص انسان محض معدنیات کیلئے انسانیت کونوچ رہے ہیں۔ دنیا کے آزاد اورخودمختار ملکوں میں حکمران تبدیل کرنے اوروہاں اپنے کٹھ پتلی بٹھانے کیلئے مداخلت بلکہ ان کیخلاف جارحیت کرنے کا امریکہ کوکس نے مینڈیٹ دیا ہے۔یادرکھیں غلام حکمرانوں کو اللہ تعالیٰ کی بجائے اپنے بیرونی آقاؤں کے روبروسجدہ ریز ہونااورجو عمران خان کی طرح”استدال“ اور”استقلال“کے ساتھ انکار کردے اسے زندان میں سڑنا پڑتا ہے۔جواقتدارمیں آنے یااپناتخت بچانے کیلئے”مالش“ اور”پالش“ کااستعمال کرتے ہیں،اقتدار کے”کھیل“میں ان کی حیثیت ”رکھیل“سے زیادہ کچھ نہیں ہوتی۔عزت”نفس“ کی قیمت پر اقتدارکاقصر ایک”قفس“ بن جاتا ہے۔ مسلمانوں کے درمیان مثالی مفاہمت اورباطل کیخلاف سودوزیاں سے بے نیاز بھرپور مزاحمت انہیں یہودوہنوداورنصاریٰ کی جارحیت سے بچاسکتی ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں