کیا سبز چائے ‘الزائمر’ سے محفوظ رکھتی ہے؟

ایک حالیہ تحقیق الزائمر اور دماغ کی بڑھاپے سے جڑی متعدد بیماریوں کی روک تھام کے طریقے دریافت کرنے کا دروازہ کھولتی ہے

ایک نئی تحقیق میں محققین کے سامنے یہ بات آئی ہے کہ سبز چائے میں موجود ایک قدرتی عنصر جب ایک عام وٹامن کے ساتھ ملایا جائے تو یہ دماغ کے لیے مؤثر “صفائی کرنے والا” ثابت ہوتا ہے اور الزائمر جیسے امراض سے جڑے فضلات کو کم کرتا ہے۔ یہ تحقیق “سائنس الرٹ” کی رپورٹ میں شائع ہوئی ۔

یہ تحقیق “یونیورسٹی آف کیلیفورنیا” میں کی گئی جہاں سبز چائے کے اینٹی آکسیڈنٹ “ایپی گالو کیٹچن گیلاٹ” اور “نیکوٹینامائڈ” وٹامن B3 کی ایک شکل پر تجربہ کیا گیا۔ نیکوٹینامائڈ جسم میں اناج، مچھلی، میوہ جات، دالوں اور انڈوں سے قدرتی طور پر بنتا ہے۔

ٹیسٹ میں ظاہر ہوا کہ یہ دونوں اجزاء دماغی خلیوں میں توانائی کے مالیکیول “جی ٹی پی” (GTP) کو بڑھاتے ہیں، جو مردہ خلیوں اور نقصان دہ مادوں کو صاف کرتا ہے۔ اس کی کمی کو الزائمر میں پہلے بھی دیکھا گیا ہے۔ ۔

ایک نئی تحقیق میں محققین کے سامنے یہ بات آئی ہے کہ سبز چائے میں موجود ایک قدرتی عنصر جب ایک عام وٹامن کے ساتھ ملایا جائے تو یہ دماغ کے لیے مؤثر “صفائی کرنے والا” ثابت ہوتا ہے اور الزائمر جیسے امراض سے جڑے فضلات کو کم کرتا ہے۔ یہ تحقیق “سائنس الرٹ” کی رپورٹ میں شائع ہوئی جسے “العربیہ ڈاٹ نیٹ” کی ٹیم نے دیکھا۔

ماہرین کے مطابق یہ اجزاء صحت مند خوراک یا محفوظ غذائی سپلیمنٹس سے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ تحقیق کے نتائج الزائمر اور بڑھاپے سے جڑی دماغی بیماریوں کی روک تھام میں نئی راہیں کھولتے ہیں۔

یہ تحقیق “یونیورسٹی آف کیلیفورنیا” میں کی گئی جہاں سبز چائے کے اینٹی آکسیڈنٹ “ایپی گالو کیٹچن گیلاٹ” اور “نیکوٹینامائڈ” وٹامن B3 کی ایک شکل پر تجربہ کیا گیا۔ نیکوٹینامائڈ جسم میں اناج، مچھلی، میوہ جات، دالوں اور انڈوں سے قدرتی طور پر بنتا ہے۔

ٹیسٹ میں ظاہر ہوا کہ یہ دونوں اجزاء دماغی خلیوں میں توانائی کے مالیکیول “جی ٹی پی” (GTP) کو بڑھاتے ہیں، جو مردہ خلیوں اور نقصان دہ مادوں کو صاف کرتا ہے۔ اس کی کمی کو الزائمر میں پہلے بھی دیکھا گیا ہے۔

جی ٹی پی کی زیادہ سطح نے دماغ کو بیٹا امائلائیڈ پروٹین کے تودے صاف کرنے میں مدد دی، جو بیماری کی بڑی وجہ سمجھے جاتے ہیں۔ ساتھ ہی بڑھاپے سے جڑا نقصان بھی کم ہوا۔

ماہرین کے مطابق یہ اجزاء صحت مند خوراک یا محفوظ غذائی سپلیمنٹس سے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ تحقیق کے نتائج الزائمر اور بڑھاپے سے جڑی دماغی بیماریوں کی روک تھام میں نئی راہیں کھولتے ہیں۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں