ایتھوپیا نے پچھلے تیس برسوں میں اپنے صحت کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے بہت اہم اقدامات کیے ہیں۔ اس دوران، ایک بین الاقوامی ادارے نے ایتھوپیا کی حکومت کے ساتھ مل کر ملک کے صحت کے شعبے کو مضبوط بنانے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ اس شراکت سے خواتین، بچوں، نوزائیدہ بچوں، اور نوجوانوں کی صحت پر مثبت اثر پڑا ہے۔
صحت کی سہولتوں کو عام لوگوں تک پہنچانے کے لیے محلّوں اور دیہات کی سطح پر اقدامات کیے گئے ہیں ، ہزاروں دیہی طبی کارکنان مقرر کیے گئے جنہوں نے سیکڑوں گھرانوں کو بنیادی طبی امداد فراہم کی ہے، ان کوششوں کے نتیجے میں کئی خواتین کی جانیں بچیں اور لاکھوں بچے بیماریوں سے محفوظ رہے۔
دوسرا اہم قدم صحت کے نظام کو بہتر اور منظم بنانے کے لیے معلوماتی نظام کو مضبوط کرنا تھا۔ ملک بھر میں علاج معالجے کا ریکارڈ رکھنے، دواؤں کی فراہمی کو بہتر بنانے، اور طبی عملے کی تربیت کے لیے نئے طریقے متعارف کروائے گئے، ان اقدامات سے علاج کی کامیابی میں اضافہ ہوا اور ادویات کی کمی میں بھی نمایاں کمی آئی۔
تیسرا بڑا کام بچوں کو بیماریوں سے بچاؤ کی دوائیں فراہم کرنا تھا۔ ان برسوں کے دوران، ملک میں کئی نئی دوائیں متعارف کرائی گئیں اور لاکھوں بچوں تک یہ سہولیات پہنچائی گئیں۔ اگرچہ اب بھی کئی بچے ایسے ہیں جنہیں یہ سہولت نہیں ملی، مگر مجموعی طور پر بڑی بہتری دیکھی گئی۔
چوتھے اہم نکتے کے طور پر، نئی طبی سہولیات کو نافذ کرنے سے پہلے تحقیق اور تجربات کیے گئے تاکہ اندازہ ہو سکے کہ کون سا طریقہ زیادہ مؤثر ہے۔ ایک مثال یہ ہے کہ ایک نئی مشین کے ذریعے ملیریا کی تشخیص میں بہتری آئی اور غلطی کی گنجائش کم ہوئی۔ اس سے مستقبل کے منصوبوں کو بہتر بنانے میں مدد ملی۔
ایتھوپیا کا صحت کا یہ سفر اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر حکومت، ادارے اور عوام مل کر کام کریں، تو صحت کے شعبے میں بڑی تبدیلی ممکن ہے۔ تیس سال کی یہ محنت آج ایک بہتر اور قابلِ اعتماد صحت کے نظام کی شکل اختیار کر چکی ہے، جو دوسرے ممالک کے لیے بھی مثال بن سکتی ہے۔