تحریر: معز خان
آج کل ٹی وی ناظرین اور اخبارات، ویب سائٹس کے قارئین مسلسل کئی اصطلاحات سن اور پڑھ رہے ہیں۔ درمیانےد رجے کا سیلاب، بلند اور انتہائی بلند درجے کا سیلاب۔ ہیڈ ورکس بیراج، کیچمنٹ ایریا، اتنےلاکھ کیوسک پانی وغیرہ۔ ان اصطلاحات کو سمجھنےکی کوشش کرتے ہیں۔
کَیوسک (Cusec) کیا ہے؟
سیلاب کی پیمائش کَیوسک میں کی جاتی ہے یعنی “کیوبک فٹ فی سیکنڈ” ۔
تکنیکی طور پر ایک کَیوسک کا مطلب ہے ہر سیکنڈ میں ایک مکعب فٹ پانی کا بہاؤ، یعنی تقریباً 28 لیٹر۔
یوں اگر بہاو ایک لاکھ کیوسک (100,000) کَیوسک ہو تو اس کا مطلب ہے کہ ہر سیکنڈ میں تقریباً 2,83,000 لیٹر پانی گزر رہا ہے۔ دریائے راوی میں دو دن قبل جسڑ کے مقام پر بہاو دو لاکھ انتیس ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا جو دریا کی محفوظ کیپسٹی سے زیادہ تھا۔
سیلاب کی شدت کیسے ناپی جاتی ہے ؟
سیلاب کی شدت ہر دریا کے سائز اور اس کی روٹین کی کیپیسٹی پر منحصر ہے۔
چھوٹے دریا جیسے راوی اور ستلج جلد ہی خطرناک سطح پر پہنچ جاتے ہیں — یہاں دو لاکھ کیوسک پانی کو “انتہائی بلند سیلاب” سمجھا جاتا ہے۔
بڑے دریا زیادہ پانی سہار لیتے ہیں۔ جیسے چناب میں ہیڈ مرالہ پر بہاو ساڑھے سات لاکھ کیوسک تک پہنچ گیا، یہ انتہائی بلند درجے کا سیلاب تھا، مگر ہیڈ نے اسے گزار دیا۔ اسی طرح قادرآباد میں تو نیا ریکارڈ بن گیا، اس کی کیپسٹی سے بھی ایک لاکھ زیادہ یعنی دس لاکھ کیوسک پانی گزر گیا۔ دوسری طرف چشمہ پر دریائے سندھ میں دو لاکھ چوراسی ہزار (284,000) کَیوسک بہاؤ رہا لیکن اس کی بڑی گنجائش کی وجہ سے اسے سیلاب کی سطح نہیں کہا گیا۔
درمیانہ بمقابلہ بلند سیلاب
درمیانہ سیلاب: دریا گنجائش کے اندر ہے مگر دباؤ میں ہے۔
بلند سیلاب: پانی معمول کی سطح سے بہت زیادہ ہے، اور کناروں، کھیتوں اور دیہات کو خطرہ لاحق ہے۔
انتہائی بلند سیلاب: دباؤ اس سطح پر ہوتا ہے کہ انجینئرز کو بیراج بچانے کے لیے بند یا نہریں توڑنی پڑ سکتی ہیں۔
غیر معمولی بلند سیلاب: سب سے خطرناک درجہ، جب پانی کا بہاؤ دریا کی گنجائش سے کئی گنا زیادہ ہو اور بڑی آبادی اور انفراسٹرکچر کو خطرہ لاحق ہو۔
ہیڈ ورکس اور بیراج؟
ہیڈ ورکس اور بیراج دریا پر بنائی گئے بڑے سٹرکچر ہیں جو پانی کے بہاؤ کو قابو میں رکھنے، نہروں کی طرف موڑنے اور زرعی ضرورت کے مطابق سطح برقرار رکھنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ ہر بیراج کی ایک مخصوص ڈیزائن گنجائش ہوتی ہے۔
اگر بہاؤ اایک خاص حد سے بڑھ جائے تو تمام گیٹ کھول دیے جاتے ہیں۔ لیکن اگر دباؤ پھر بھی کم نہ ہو تو حکام بیراج کو بچانے کے لیے جان بوجھ کر نہریں یا بند کاٹنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں، چاہے اس کے نتیجے میں قریبی کھیت یا دیہات متاثر کیوں نہ ہوں۔ ان بیراج کو اپ گریڈ بھی کیا ہے، نئے گیٹ بنا کر۔ جیسے پنجاب کے خانکی بیراج ، تونسہ بیراج اور تریموں بیراج وغیرہ پچھلے چند برسوں میں اپ گریڈ ہوئے ہیں اور ان کی کیپسٹی میں اضافہ ہوا۔
کیچمنٹ ایریا سے کیا مراد ہے؟
کسی بھی دریا یا ندی کا کیچمنٹ ایریا وہ پورا جغرافیائی علاقہ ہے جہاں ہونے والی بارش یا برف باری کا پانی جمع ہو کر اس دریا میں آتا ہے۔ اسے ڈرینج بیسن بھی کہتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر پہاڑوں پر بارش ہو اور وہ پانی چھوٹی ندیوں سے ہو کر دریائے چناب میں جا گرے تو وہ سارا علاقہ چناب کا کیچمنٹ ایریا (catchment area) ہے۔ اسی طرح جہلم، سندھ وغیرہ کا معاملہ ہے۔